Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
214 - 415
  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالی شا ن ہے:
اُعْبُدِ اللہَ فِی الرِّضَا فَاِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَفِی الصَّبْرِ عَلٰی مَا تَکْرَہُ خَیْرٌ کَثِیْرٌ۔
ترجمہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت رضا مندی سے کرو اگر ایسا نہ ہوسکے تو ناگوار بات پر صبر کرنے میں بہت زیادہ بھلائی ہے ۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الصبر علی المصائب، فصل فی ذکرما فی الأوجاع ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۱۰۰۰۰،ج۷،ص۲۰۳،بتغیرٍ)
    پس ابتداء میں صبر کر یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے، کیونکہ اصل فطرت بھی باطنی صورت کے حُسن کا تقاضا کرتی ہے اور اسی طرف مائل ہوتی ہے اورنبئاَکرم،رسولِ محتشم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اسی جانب اشارہ فرمایا:
 ''اَلْحَسَنَۃُ بِعَشَرِ اَمْثَالِھَا
ترجمہ:ایک حسنہ دس نیکیوں کے برابر ہے۔ ''
(صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب فضل الصوم، الحدیث۱۸۹۴،ص۱۴۸)
    اوریہی اصلِ فطرت کی موافقت ہے۔
اخلاق سنوارنے کا تفصیلی طریقہ
    بے شک ہم جان چکے ہیں، کہ جسم کی بیماری کا علاج اس کی ضد کے ساتھ ہوتاہے۔ اسی طرح مرضِ دل کا معاملہ ہے۔ اور یہ چیز لوگوں کے مختلف ہونے کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں اورشیخ اپنی قوم میں اس طرح ہوتا ہے جیسے نبی اپنی اُمّت میں، وہ مرید کا حال دیکھتاہے اوراس پر غالب آنے والی صفات کو جانتاہے اور ان چیزوں کو بھی جانتاہے جن سے مُرید کا علاج ممکن ہوتاہے، لہٰذا وہ اسے ابتدائی مرحلے میں عبادات ، کپڑوں کو پاک وصاف رکھنے ، نمازوں پر پابندی اختیار کرنے اورتنہائی میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے میں مشغول رکھتاہے۔ پس اس طرح اس کے پوشیدہ عیوب ظاہر ہوجاتے ہیں جس طرح پتھر میں چھپی آگ (ایک پتھر کو دوسرے پر مارنے سے )ظاہر ہوجاتی ہے اوراگر اس کے پاس زائد مال ہوتو شیخ اسے لے کر محتاجوں میں بانٹ دیتاہے تاکہ اس کا دِل فارغ ہوجائے اوراس کے دِل کا فارغ ہونا ہی اصل چیز ہے۔ پھر اس کے غیر کے دل کا فارغ ہونا اس کے مال کے لئے وبال ہے اوراس کے غموں کو بڑھاتا ہے اوران غموں کی برکت سے اس پر اس کا مقصود آسان ہو جاتا ہے اور تہذیبِ اخلاق کا طریقہ یہ بھی ہے، کہ اس کی بعض صفات کو دوسری صفات پر مسلَّط کردیا جائے۔ چنانچہ وہ عارضی ریاء کے ذریعے سخاوت میں رغبت اختیار کرے(جبکہ اسے دل میں نہ جمنے دے )، تاکہ وہ بخل ، دنیا کی محبت اور اس کے جمع کرنے کو ترک کر دے اور غصہ وشہوت کا استعمال ترک کردے، تاکہ وہ اسے پاکدامنی اوردرستگی پر ابھارے ،پھر اس کے بعد ریاکاری کی طرف متوجہ ہو اور ریاضت کی مدت میں حاصل ہونے والی دین کی قوت اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف اپنی توجہ کے ذریعے اس کاقلع قمع کر
Flag Counter