(الزھد الکبیر للبیھقی،الجز الثانی، فصل فی ترک الدنیا ومخالفۃ النفس والھوی، الحدیث۳۷۳،ص۱۶۵، مفہوماً)
جان لو !نفس کی کچھ بیماریاں ہیں جن سے اس کا پاک وصاف ہونا ضروری ہے اس طرح وہ ہمیشہ کی سعادت اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا قُرب حاصل کرسکتا ہے۔
حُسنِ اخلا ق کی فضیلت آپ پہلے جان چکے ہيں۔
حضور نبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ حُسْنَ الْخُلْقِ یُذِیْبُ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا تُذِیْبُ الشَّمْسُ الْجَلِیْدَ.
ترجمہ:بے شک اچھے اخلاق گناہ کو اس طرح مٹا دیتے ہیں جس طرح سورج برف کو پگھلا دیتاہے۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی حسن الخلق ،الحدیث۸۰۳۶،ج۶،ص۲۴۷۔۲۴۸)
حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے ،نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' گذشتہ رات میں نے ایک عجیب بات دیکھی، میں نے اپنی امت کے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے گھٹنوں کے بل جُھکا ہوا تھا ،اس کے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان حجاب تھا پس حُسنِ اخلاق آیا اوراس نے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قرب میں پہنچا دیا۔''
(مکارم الاخلاق للخرائطی، باب ثواب حسن الخلیقۃوجسیم خطرھا، الحدیث۴۹،ج۱،ص۵۲)
اچھے اوربُرے اخلاق کا بیان :
کہا جاتاہے کہ فلاں اچھے خَلْق اور اچھے خُلُق یعنی اچھے ظاہر وباطن والا ہے۔ ظاہر کا حُسن خوبصورتی ہے جیسا کہ آپ جانتے ہيں اورباطنی حُسن سے مراد بُری صفات پر اچھی صفات کا غالب ہونا ہے اورباطن میں تفاوُت(یعنی فرق)، ظاہر میں تفاوت سے زیادہ ہوتا ہے اوراسی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ اقدس میں اشارہ فرمایا،