Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
210 - 415
بعض بجلی چمکنے کی طرح ، بعض بادلوں کی طرح ، بعض ستارہ ٹوٹنے کی طرح اوربعض سرپٹ دوڑتے گھوڑے کی طرح گزریں گے۔ اور جس شخص کو قدموں کے انگوٹھے پر نور عطا کیا جائے گا وہ اپنے چہرے ، ہاتھوں اورپاؤں پر گِھسٹتا گزرے گا ،ایک ہاتھ کو کھینچے گا تو دوسر الٹک جائے گا،ایک پاؤں کھینچے گا تو دوسرا لٹک جائے گا۔اس کے اردگرد آگ پہنچ جائے گی پس( اس کے ساتھ) اسی طرح ہوتا رہے گا یہاں تک کہ وہ نجات پاجائے گا۔''
    (المعجم الکبیر، الحدیث۹۷۶۳،ج۹،ص۳۵۸)
    اسی طرح ایمان کے درجات کے اعتبار سے( لوگوں میں) باہمی فرق ظاہرہوگا۔

    شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والا شان ہے:
لَوْ وُزِنَ اِیْمَانُ اَبِیْ بَکْرٍ بِاِیْمَانِ الْعَالَمِ سِوَی النَّبِیِّیْنَ لَرَجَحَ۔
ترجمہ:اگر ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان کا انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ایمان سے موازنہ کیا جائے تو یہ بڑھ جائے گا۔
(شعب الایمان للبیھقی، باب القول فی زیادۃ الایمان ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۳۶،ج۱،ص۶۹)
    اس کی مثال اس طرح ہے جیسے کوئی شخص کہے: اگر سورج اورتما م چراغوں کی روشنی کا موازنہ کیا جائے تو سورج کی روشنی زیادہ ہوگی۔ لہٰذا لوگوں کا ایمان چراغ اور شمع کی روشنی کی طرح ہے، اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ایمان چاندستاروں کی روشنی کی طرح ہے جبکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ایمان کی مثال سورج کی روشنی کی طرح ہے۔
طریقۂ صوفیاء کے صحیح ہونے کا بیان
    حضرت سیِّدُنا ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:''مؤمن باریک پردے کے پیچھے سے دیکھتاہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! یہ حق بات ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے دلوں میں ڈالتا اورزبانوں پر جاری کرتاہے۔''

    حضورنبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالی شان ہے:
اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہ، یَنْظُرُ بِنُوْرِاللہِ۔
ترجمہ:مؤمن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نور سے دیکھتاہے۔
(جامع الترمذی، ابواب تفسیر القرآن، باب سورۃ الحجر، الحدیث۳۱۲۷،ص۱۹۶۸)
    سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ مِنْ اُمَّتِیْ مُحَدَّثِیْنَ وَمُکَلَّمِیْنَ وَاِنَّ عُمَرَمِنْھُمْ۔
ترجمہ:بے شک میری اُمَّت میں کچھ مُحَدَّثِیْن و مُکَلَّمِیْن ہیں اور عمر فاروق انہی میں سے ہیں۔
(صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب مناقب عمر بن الخطاب۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۳۶۸۹، ص۳۰۰ بدون مُکَلَّمِیْنَ)
Flag Counter