(امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی اس حکایت کو نقل کرنے کے بعدارشاد فرماتے ہیں:)''اسی طرح صوفیاء کرام اپنے دل کو صاف کرتے اور چمکاتے رہتے ہیں جب کہ دوسرے لوگ صرف نقش ونگاری میں مصروف رہتے ہیں، چنانچہ وہ چیزجو علماء پر ظاہر نہیں ہوتی وہ صوفیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین پر زیادہ چَمَک دَمَک کے ساتھ ظاہر ہوجاتی ہے اور علماء نے جو کچھ حاصل کیا ہوتاہے اس کے علاوہ صوفیاء پر ایسے ایسے امور ظاہر ہوتے ہیں علم حاصل کرکے جن تک پہنچنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔''
حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اسی طرف اشارہ فرمایا:مَالَاعَیْنٌ رَأَتْ وَلاَ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ۔
ترجمہ:(وہ ایسی نعمتیں ہیں )جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سُنا اورنہ ہی کسی انسان کے دل میں ان کا گمان گزرا۔
(صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی صفۃالجنۃوأنھا مخلوقۃ، الحدیث۳۲۴۴،ص۲۶۳)
حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان ذیشان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اَیَعْلَمُ اَحَدٌ اِذَا وَاجَھْتُہ، بِوَجْھِیْ اَیُّ شَیْءٍ اُرِیْدُ اَنْ اُعْطِیَہ،۔
ترجمہ:کیا کوئی جانتا ہے جب میں کسی کی طرف اپنی رحمت کے ساتھ متوجہ ہوتاہوں تو میں اسے کیا دینا چاہتاہوں۔
یہی وہ زندگی ہے ،جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان سے مراد ہے:اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحْیِیۡکُمْ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:جب رسول تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی۔(پ9،الانفال:24)
پس اس وقت دل نہیں مرتا۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے ارشاد فرمایا: ''مِٹی ایمان کے محل (کی جگہ)کو نہیں کھاتی۔''
چنانچہ جب ہرشخص کے لئے اس کی محنت کے مطابق اجر ہے تو مؤمن اپنے انوار کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات کی کوشش کرتا ہے ۔
حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرما نِ عالی شان ہے:''بعض ایمان والوں کو پہاڑ کی مثل نور عطا کیا جائے گا اوربعض کو اس سے کم حتی کہ ان میں سے آخری شخص کو پاؤں کے انگوٹھے پر نور عطا کیا جائے گا، کبھی وہ چمکنے لگے گا اورکبھی بُجھ جائے گا ۔ جب وہ روشن ہوگا تو یہ قدم بڑھاتے ہوئے چلے گا اورجب بُجھ جائے گا تو یہ کھڑا ہو جائے گا اورپلِ صراط سے بھی وہ اپنے نُور کے مطابق گزریں گے۔ ان میں سے بعض پلک جھپکنے کی دیر میں گزر جائیں گے ،