Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
208 - 415
تیرے لئے غیب ظاہر ہوجاتاہے اوروہ چیزبھی ظاہر ہوجاتی ہے جو کچھ مدت بعد واقع ہوگی اوربیداری میں یہ دروازہ انبیاء کرام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے کھلتاہے اوریہ چیز اس کے لئے ہے جو اپنے دل کو ماسو ٰی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پاک کرکے مکمل طور پر اسی کی طرف متوجہ ہوجائے۔ حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے فرمان میں اسی طرف اشارہ فرمایا: ''سَبَقَ الْمُفْرِدُوْنَ ترجمہ: مفردون سبقت لے گئے ۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ِبے کس پناہ میں عرض کیا گیا: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مفردون کون ہیں ؟ ''

    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر میں کوشش کرتے ہیں ذکرِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ان کے بوجھوں کو ہلکا کردے گااور وہ بروزِقیامت ہلکے پھلکے ہوں گے ۔''(پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ)اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتاہے :''میں ان کی طرف اپنی رحمت سے متوجہ ہوتاہوں، کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں جن کی طرف اپنی نظرِ رحمت فرماتاہوں کیا کوئی جانتا ہے کہ میں انہیں کیا عطا فرمانا چاہتا ہوں ؟''پھر نبئ اکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مزید ارشاد فرمایا:(اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ )'' پہلے میں ان کے دلوں میں اپنا نور داخل فرما دیتا ہوں، چنانچہ وہ میرے بارے میں یوں خبر دیتے ہیں جیسے میں ان کے بارے میں خبر دیتا ہوں۔''
(جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب سبق المفردون، الحدیث۳۵۹۶،ص۲۰۲۲، مختصراً۔وبتغیرٍ)
    پس ان تمام خبروں کا دخول دل کے اس دروازے سے ہوتاہے جو علم غیب کی طرف ہوتاہے اوروہی علم الہٰی ہے۔

    بعض صوفیاء فرماتے ہیں :دل میں غیب کی طرف ایک روشن دان ہوتاہے ۔

    اب ہم ایک حکایت کے ذریعے علماء ِ ظاہر اورصوفیاء کے طریقے کے درمیان فرق بیان کرتے ہیں۔

    منقول ہے، چین اورروم والوں نے کسی بادشاہ کے سامنے نقش ونگار اورتصاویر بنانے کے سلسلے میں باہم مقابلہ کیا۔ بادشاہ نے اپنی رائے کے مطابق ایک مکان ان کے سپرد کردیا کہ اس کی ایک جانب چین والے نقش ونگار کریں اوردوسری جانب روم والے۔ اوردرمیان میں پردہ ڈال دیا تاکہ وہ ایک دوسرے کا کام دیکھ نہ سکیں، روم والوں نے اپنی طرف بے شمار عجیب وغریب قسم کے خوبصورت نقش و نگار کئے اورچین والوں نے اپنی طرف کی دیوار کو خوب اچھی طرح صاف شفاف کر کے شیشے کی مثل بنا دیا۔ جب اہل روم فارغ ہوگئے تو چین والوں نے کہا :ہم بھی فارغ ہوگئے ہیں۔ بادشاہ کو ان پر تعجب ہوا کہ وہ کسی قسم کا نقش ونگار کئے بغیر کیسے فارغ ہوگئے ؟ توانہوں نے کہا:آپ کو اس پرکیا اعتراض ہے ؟آپ پردہ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔جب پردہ اٹھایا گیا تو روم والوں کے بنائے ہوئے نقش ونگار چین والوں کی چمکائی ہوئی دیوار میں چمک رہے تھے کیونکہ وہ دیوار کو صاف کرتے اور چمکاتے رہے جبکہ
Flag Counter