تیرے لئے غیب ظاہر ہوجاتاہے اوروہ چیزبھی ظاہر ہوجاتی ہے جو کچھ مدت بعد واقع ہوگی اوربیداری میں یہ دروازہ انبیاء کرام اور اولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے لئے کھلتاہے اوریہ چیز اس کے لئے ہے جو اپنے دل کو ماسو ٰی اللہ عَزَّوَجَلَّ سے پاک کرکے مکمل طور پر اسی کی طرف متوجہ ہوجائے۔ حضور نبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے فرمان میں اسی طرف اشارہ فرمایا: ''سَبَقَ الْمُفْرِدُوْنَ ترجمہ: مفردون سبقت لے گئے ۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ِبے کس پناہ میں عرض کیا گیا: ''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مفردون کون ہیں ؟ ''
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر میں کوشش کرتے ہیں ذکرِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ ان کے بوجھوں کو ہلکا کردے گااور وہ بروزِقیامت ہلکے پھلکے ہوں گے ۔''(پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ)اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا وصف بیان کرتے ہوئے فرماتاہے :''میں ان کی طرف اپنی رحمت سے متوجہ ہوتاہوں، کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں جن کی طرف اپنی نظرِ رحمت فرماتاہوں کیا کوئی جانتا ہے کہ میں انہیں کیا عطا فرمانا چاہتا ہوں ؟''پھر نبئ اکرم، نورِ مجسم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مزید ارشاد فرمایا:(اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ )'' پہلے میں ان کے دلوں میں اپنا نور داخل فرما دیتا ہوں، چنانچہ وہ میرے بارے میں یوں خبر دیتے ہیں جیسے میں ان کے بارے میں خبر دیتا ہوں۔''