Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
207 - 415
بھی دیکھ لے، جن سے وہ فائدہ حاصل کرتا ہے ۔ 

    یہ بات آپ پہلے جان چکے ہیں،کہ اشیاء کے حقائق لو حِ محفوظ میں منقوش ہوتے ہیں ،پس جب دل صاف شفاف شیشے کی طرح ہوجاتا ہے، تو جب بھی حجاب اٹھتا ہے اور شیشہ لوحِ محفوظ کے سامنے ہوتاہے، تو اس میں علوم کے حقائق ظاہر ہوجاتے ہیں اورحجاب کا اٹھنا کبھی نیند میں ہوتاہے اورکبھی بیداری میں اوریہی صوفیاء کی عادت ہے۔ اورکبھی حجاب کا اٹھنا محض اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لطف وکرم کی ہواؤں کے چلنے سے ہوتا ہے جو بندے کی طرف سے بغیر کسی سبب اورتیاری کے ہوتاہے۔ چنانچہ دل کے لئے غیب کے حجاب سے علوم کے کچھ اسرار واضح ہوجاتے ہیں اوراس کشف کی تکمیل موت سے ہوتی ہے اورکبھی موت سے کلی طور پر حجاب اٹھ جاتاہے، اسی کی طرف شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے فرمان میں اشارہ فرمایا:
''اَلنَّاسُ نِیَامٌ فَاِذَا مَاتُوْا اِنْتَبَھُوْا
ترجمہ:لوگ سوئے ہوئے ہیں، جب انہیں موت آئے گی تو بیدار ہوجائيں گے۔ ''
       (حلیۃ الاولیاء، سفیان الثوری، الحدیث۹۵۷۶،ج۷،ص۵۴)
    اور صوفیاء کا دل کی صفائی کاطریقہ بھی موت کے قریب ہے اسی وجہ سے وہ لوگ علم سیکھنے میں مصروف نہیں ہوتے بلکہ دل کی صفائی اورعلائق دنیا سے قطع تعلقی میں مشغول رہتے ہیں تاکہ یہ چیز کلی طور پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونے کا سبب بن جائے پھر وہ اپنا معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردیتے ہیں ،پس وہ ان کے دل پر ظاہر ہونے والے انوارو تجلیّات کو زیادہ جانتا ہے ، اوریہی انبیاء کرام اوراولیاء عظام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا طریقہ ہے کہ وہ پڑھنے پڑھانے سے علوم وحقائق حاصل نہیں کرتے بلکہ وہ علوم ومعارف کے خزانے پاتے ہیں اور ان کے ذریعے (ظاہری طور پر) علم حاصل کرنے سے مستغنی ہوجاتے ہيں ۔سیکھنے والے علم اوران کے طریقہ کی مثال کنز اور کیمیاء ہے اورجب تک تو کنز( یعنی اصلی خزانہ )پر مطلع نہ ہوجائے علم کے حاصل کرنے کو نہ چھوڑ کیونکہ اس طرح کرنا ہلاکت کا سبب ہے ۔
علوم کے اعتبا رسے دل کی حا لت نیزعلماءِ ظا ہر

اورصوفیاء کے طریقے میں فرق کا بیان
  اے بھائی جان لے! دل کے دو دروازے ہیں۔ ایک دروازہ وہ ہے جو عالَمِ حواس کی طرف ہے۔۱؎ اوردوسرا وہ ہے جو عالَمِ غیب کی طرف ہے ۔ نیند میں کچھ غوروفکر کرنے سے اس بات کی سچائی سامنے آتی ہے کیونکہ تو نیند میں عجائبات دیکھتا ہے اور
۱؎:حواس سے حواسِ خمسہ مراد ہیں اور ان پانچ حواس یعنی دیکھنے ،سننے، سونگھنے، چکھنے اورچھونے کی قوتوں کو حواسِ خمسہ کہتے ہيں۔''(فیروز اللغات،ص ۵۷۶)
Flag Counter