| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
یہ منافق کے دل کی مثال ہے۔ حضرت سیِّدُنا زید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان:
''فِیۡ لَوْحٍ مَّحْفُوۡظٍ ﴿٪۲۲﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اورلوحِ محفوظ میں ۔'' سے مراد مؤمن کا دل ہے۔(پ۳۰،البروج:۲۲)
جان لو ! بے شک انسان میں اپنی فطرت اورترکیب کے اعتبار سے چار قسم کی صفات کی آمیزش ہوتی ہے:(۱) درندوں والی صفات (۲)جانوروں والی صفات(۳)شیطانی صفات اور(۴)ربّانی صفات۔چنانچہ جب اس پر غصہ مسلط ہوتو درندوں والے کام کرتاہے اورجب اس پر شہوت غالب ہوتو جانوروں والے کام کرتاہے اورانسان پر ان دوصفات کی وجہ سے اورحرص، قہر، غلبہ ، فریب اوردھوکا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شیطانیت غالب آجاتی ہے اور اس حیثیت سے کہ حقیقت میں روح امرِ ربّانی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ !روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے۔(پ15بنیۤ اسرائیل:85)
تو وہ (یعنی نفس)اپنے لئے رب ہونے کا دعوی کرتاہے، حاکمیت پسند کرتاہے اوراطاعت کو ترک کردیتاہے اورجب
علم ومعرفت کی طرف منسوب کیا جائے تو خوش ہوجاتاہے اورجب اسے جاہل کہا جائے تو غمگین ہوجاتاہے۔
جب تم نے یہ بات جان لی تویہ بھی جان لو کہ عبادات میں مشغول ہونے اور ان پر ہمیشگی اختیار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دل نامناسب باتوں سے اچا ٹ ہوجائے اورایسی باتیں باقی رہیں جن کا دل میں رکھنا ضروری ہے۔
یہ بات ان شاء اللہ عَزَّوَجَل عنقریب ریاضتِ نفس کے باب میں ذکر کی جائے گی اورجان لو ! علمِ صالح کا دل کے لئے حاصل ہونا اگر سیکھنے اور مقدمات کی تقدیم کے طریقے سے ہو تو یہ علماء کا طریقہ ہے اورجو اس کے علاوہ ہے وہ صوفیاء کا طریقہ ہے اور وہ کشف ومشاہدہ کے ذریعے علم کا حصول ہے۔
چنانچہ اس کی دو ا قسام ہیں، ان میں ایک کی مثال نفس میں الہام کا واقع ہونا ہے اوریہی دِل میں کسی چیز کا ڈالنا ہے۔ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:''بے شک روح القدس (یعنی حضرت سیِّدُنا جبریل علیہ السلام ) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ جس سے آ پ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم چاہیں محبت کریں،بے شک آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس سے علیٰحدہ ہونے والے ہیں،جو چاہیں عمل کریں،بے شک آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اس کا بدلہ دیا جائے گا اورجتنی چاہیں زندگی گزاریں بالآخر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا وصال ِ ظاہری ہونا ہے ۔(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الأمل، الحدیث۱۰۵۴۱،ج۷،ص۳۴۹،بتغیرٍ)
اورایک دوسری قسم ہے جو الہام کی جنس سے ہے۔ وہ یہ ہے کہ حقائق انسان پر ظاہر ہوجائیں اور وہ ان مؤکل فرشتوں کو