Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
205 - 415
    مختصریہ کہ تم جان لو! بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ کا جُود اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سعادت بغیر کسی بُخل کے حاصل ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کرمِ سرمدی(یعنی دائمی) اس بات کا تقاضا کرتاہے کہ دل اصل فطرت میں اس سعادت کے قبول کرنے کو تیار رہے اور اسی کی طرف نبئ کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمانِ عالیشان میں اشارہ ہے:
کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ۔
ترجمہ: ہر بچہ (دینِ) فطرت پر پیدا ہوتاہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین، الحدیث۱۳۸۵،ص۱۰۸)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ذیشان ہے:
(1) فِطْرَتَ اللہِ الَّتِیۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیۡہَا ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ کی ڈالی ہوئی بِنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا۔ (پ21، الروم:30)
(2) لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ ۫﴿4﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا۔(پ30،التین:4)

    ہاں!اس کے بعد ان دو امور کے درمیان دیگر ایسے امور آجاتے ہیں جو (اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت وجلال سے)مانع اور غافل کرنے والے ہوتے ہیں اوروہ خواہشات، خبائث اورمشاغل ہیں۔ چنانچہ جب یہ موانع ختم ہوجاتے ہیں تو امور اصل مقتضیات کی طرف لوٹ جاتے ہیں اوردل پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت اوراس کاجلال ظاہر ہوجاتاہے اوروہ ہمیشہ کی سعادت تک پہنچ جاتاہے پس کسی چیز میں سے برتن میں جتنا ڈالا جاتا ہے اتنا ہی وہ غیر کے لئے وسعت اختیار کرتاہے۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
 الرَّبَّانِیُّوۡنَ وَ الۡاَحْبَارُ
تر جمۂ کنز الایما ن: عا لم ا ور فقیہہ۔(پ6،المائدۃ:44)

    جس شخص کو یہ سعادت حاصل ہوجاتی ہے وہ معزّز فرشتوں کی طرح ہو جاتا ہے اورربّانی (یعنی اللہ والا)بن جاتاہے۔

    امیر المؤمنین ،مولیٰ مشکل کشاحضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے فرمان میں اسی جانب اشارہ ہے۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِرشاد فرمایا:''بے شک زمین میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے برتن ہیں اوروہ دِل ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک ان میں سے زیادہ پسندیدہ وہ برتن ہے جو نرم ، صاف اورمضبوط ہو۔'' پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: '' جو دین میں زیادہ مضبوط، یقین میں زیادہ صاف اوراپنے بھائیوں کے لئے زیادہ نرم ہیں۔''

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں اِسی طرف اشارہ ہے:
اَوْکَظُلُمٰتٍ فِیۡ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ
ترجمۂ کنزالایمان:یا جیسے اندھیریاں کسی کنڈے کے(گہرائی والے) دریا میں۔ (پ18،النور:40)
Flag Counter