اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قلم لکڑی اوربانس سے بنا ہوا نہیں جیسے اس کی ذات نہ جوہر(یعنی جسم ) ہے نہ عرض(جو قائم رہنے کے لئے دوسرے جسم کا محتاج ہو)۔
یقینا تیرے لئے دل کی مثال ظاہر ہوگئی یعنی دل لطیفہ ربّانیہ ہے جو بادشاہ کی طرح ہے اورجسم اس کی سلطنت کی طرح ہے اورقوتِ عقلیہ مفکِّرہ اس کی وزیر ہے اورمذموم صفات اس کے سپاہی ہیں اوردل جب تک وزیر کے مشورہ کے مطابق استعمال پر قدرت رکھتاہے اورعقل کے مشورہ کے مطابق اپنی سلطنت میں تصرف کرتاہے وہ اپنی سلطنت میں درست رہتاہے لیکن اگر شہوات اورمذموم صفات عقل کے مشورہ کو ختم کرنے پر مسلط ہو جائیں تو یہ چیز عدل کے خلاف ہوتی ہے اورہم اس کی دوسری مثال دیتے ہیں کہ یہ شکار کرنے والے گُھڑ سوار کی طرح ہے ، بدن اس کی سواری اورغضب و شہوت اس کے کتے ہیں۔ اگر گھوڑا اس کی اطاعت کرے،درندہ اورکتااس کے مطیع ہوں تو شکار کا مقصد پورا ہوگا اوروہ علوم اور دائمی سعادت کاحصول ہے لیکن اگر گھوڑا سرکش ہو اوراس کی اِطاعت نہ کرے یا کتا سدھایا ہوا نہ ہو، نہ اس کے اشارہ پر بھاگے ،نہ رُکے تو معاملہ خراب ہوجائے گا اور مقصود حاصل نہ ہوگا اورڈر ہے کہ کتا شکار پر غلبہ پاکر اسے کھاجائے گا چہ جائیکہ وہ شکار اس کے لئے روک کر رکھے۔
جان لو! دل کے لئے حصولِ علم کے چند درجات ہیں ۔
ان میں سے ایک درجہ وہ ہے جو علماء کا ہے کہ وہ مقدمات سے نتائج اوردلائل سے مدلولات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک درجہ وہ ہے جو کشف اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِرادہ کے ذریعے حاصل ہوتاہے جس طرح انبیاء کرام علیٰ نبیناوعلیہم الصلوٰۃو السلام کا مرتبہ ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سَیِّدُناابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام کے بارے میں ارشادفرمایا: