Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
202 - 415
عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !اللہ عَزَّوَجَلَّ کہاں ہے ؟زمین میں ہے یا آسمان میں ؟ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''اہل ایمان کے دلوں میں ہے۔''
    (مسند الشامیین للطبرانی، الحدیث۸۴۰،ج۲،ص۱۹، بتغیرٍ)
    (حدیث ِ قدسی ہے) اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
لَمْ یَسْعَنِیْ اَرْضِیْ وَ سَمَآئِیْ وَوَسَعَنِیْ قَلْبَ عَبْدِیَ الْمُؤْمِنِ ۔
ترجمہ:میں اپنے زمین وآسمان میں نہیں سماسکتا بلکہ میں اپنے مؤمن بندے کے دل میں سماتاہوں۔
(فردوس الاخبار للدیلمی، باب القاف، الحدیث۴۴۶۲،ج۲،ص۱۳۵، بتغیرٍ)
    اسی وجہ سے امیرالمؤمنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''میرے دل نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھا۔'' کیونکہ انہوں نے اپنے دل کا تزکیّہ کیا تھا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان عالیشان ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک مراد کو پہونچایاجس نے اسے ستھرا کیا۔(پ30،الشمس:9)

    جان لو! قبولِ حق کے تین درجات ہيں ۔ 

(۱) بچپن سے سن کر قبول کرنا اس میں خطأ کا امکان ہے اوریہ عوام کی تقلید ہے۔

(۲) وہ اپنے مطلوب کے کلام کو سنے مثلاً گھر کے اندر سے سنے ۔یہ بات اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ یہی شخص مطلوب ہے۔ 

(۳) گھر میں داخل ہو کراپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ ومعائنہ کرنا اور امیر المؤمنین، مولائے مشکل کشاحضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اس فرمان سے یہی مراد ہے کہ اگر پردہ ہٹ جائے تو ایمان میں یقینا اضا فہ ہوگا۔

    اوریہ انبیاء علیھم السلام ، صدیقین اوراولیاء علیہم الرحمۃ کا ایمان ہے اوریہ ایمان سہو وغفلت سے پاک ہوتا ہے۔ 

    جبکہ کافر، بچے اورمجنون کے حقائق پر مطلع نہ ہونے کی مثال اس بینا شخص کی ہے جو اندھیر ے میں ہوتاہے کیونکہ نگاہ اکثر کامل ہوتی ہے لیکن دیکھنا ممکن نہیں ہوتا حتیّٰ کہ سورج کی روشنی میں انسان سابقہ بینائی سے دیکھنے لگتاہے۔ اسی طرح عقلمند اور بالغ ہونے سے پہلے پاگل اوربچے کے دل پر علم منکشف نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دل کی تختی قلم کے نقش کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتی اور قلم سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق ہے جسے اس نے بندوں کے دلوں میں علوم نقش کرنے کاسبب بنایاہے۔

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿4﴾عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ﴿5﴾
ترجمۂ کنزالایمان : جس نے قلم سے لکھنا سکھایاآدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔(پ30،العلق:4۔5)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قلم مخلوق کے قلم کے مشابہ نہیں جس طرح اس کے اوصاف مخلوق کے اوصاف کے مشابہ نہیں۔
ترجمہ:اپنے نفسو ں کا محاسبہ کرو، اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔
Flag Counter