| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا
ترجمۂ کنزالایمان:میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اورزمین بنائے ایک اُسی کا ہوکر۔(پ7،الانعام:79)
چوتھا سبب:چوتھی رکاوٹ حجاب ہے، وہ اس طرح کہ اس کے دل میں شہوت باقی ہوتی ہے یا بچپن سے اپنا یا ہوا فاسد عقیدہ ہوتاہے اوراس کا اثر باقی رہتاہے۔
پانچواں سبب: جس سمت سے مطلوب حاصل ہوتاہے اس سے ناواقف ہونا بھی ایک رکاوٹ ہے۔اُسے اس چیز پر مکمل طور پر ایمان ہونا چاہے جو اسے حاصل نہ ہو اوریہی ایمان بالغیب ہے اورجب تک اسے یہ ایمان نہ ہوتو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ان چیزوں کو طلب کرے جن کے وجود کا اسے علم ہی نہیں؟ چنانچہ غفلت رکاوٹ بن جاتی ہے۔
شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالی شان ہے :لَوْلَا اَنَّ الشَّیَاطِیْنَ یَحُوْمُوْنَ عَلٰی قُلُوْبِ بَنِیْ آدَمَ لَنَظَرُوْا اِلٰی مَلَکُوْتِ السَّمَاءِ۔
ترجمہ:اگر شیاطین نے انسانوں کے دلوں کو گھیرا ہوا نہ ہوتا تو وہ آسمان کی بادشاہی کی طرف دیکھ لیتے۔۱؎
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھریرۃ، الحدیث۸۶۴۸،ج۳،ص۲۶۹۔۲۷۰، بتغیرٍ)
سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگار عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالی وقارہے:
کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ۔
ترجمہ:ہر بچہ (دینِ) فطرت پر پیدا ہوتاہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
(صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ما قیل فی أولاد المشرکین، الحدیث۱۳۸۵،ص۱۰۸)
حضرت سیِّدُنا ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں عرض کیا گیا:''یا رسول اللہ
۱؎:اولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے دِلوں میں جلوۂ حق اس قدر آشکار ہوتا ہے کہ کعبہ مبارکہ بھی ان کا استقبال کرتا ہے جیسا کہ ''حضرت سَیِّدَتُنارابعہ بصریہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا جب حج کے لئے تشریف لے گئیں تو کعبہ مبارکہ نے خود آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔''
( تذکرۃ الاولیاء،حضرت سَیِّدَ تُنا رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہا،ص۶۷)