جان لو! دل کی مثال آئینہ کی طرح ہے اورعلوم وحقائق کی مثال ان تصاویر کی طرح ہے جو آئینہ میں دکھائی دیتی ہیں۔ آئینہ بھی شئ ہے اورحقائق بھی بالذات شئ ہیں اورآئینہ میں تصویر کا حصول بھی شئ ہے، پس یہ تینوں اشیاء ہیں۔
پس''علم''آئینہ میں کسی چیز کا حصول ہے اور''دل'' آئینہ کی مثال ہے اور''حقائق'' بالذات ایک تیسری چیز ہے ۔جب یہ معلوم ہوگیا تو جان لو! آئینہ میں صورت کے واضح نہ ہونے کے پانچ اسباب ہیں:
پہلا سبب:آئینہ اچھا نہ ہواور وہ یہ ہے کہ ابھی اسے آئینہ کی شکل نہ دی گئی ہو اور نہ ہی پالش کیا گیا ہو۔
دوسرا سبب: اس میں گدلا پن ہواورزنگ لگا ہواہو۔
تیسرا سبب: جس چیز کو آئینہ میں دیکھنا ہو وہ اس سے ہٹی ہوئی ہو، وہ یوں کہ وہ چیز آئینہ کے پیچھے ہو۔
چوتھا سبب : آئینہ اورصورت کے درمیان پردہ لٹکا دیا گیا ہو۔
پانچواں سبب:جس چیز کی صورت دیکھنا مقصو د ہے اس کی سمت معلوم نہ ہو۔
اسی طرح دل بھی ایک آئینہ ہے جسے اس مقصد کے لئے تیار کیا گیا ہے کہ اس میں تمام مامورات کے حقائق منکشف ہوں لیکن پانچ اسباب کی وجہ سے دل حقائق سے خالی ہوتا ہے۔
پہلا سبب : دل میں ہی کمی اورنقصان ہو جیسے بچے اورپاگل کا دل۔
دوسرا سبب:گناہوں کی کدورت اورخباثت جو خواہشات کی کثرت کی وجہ سے دل پر جمع ہوگئی ہو، اِسی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے فرمان میں اشارہ فرمایا: