Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
200 - 415
    جان لو! دل کی مثال آئینہ کی طرح ہے اورعلوم وحقائق کی مثال ان تصاویر کی طرح ہے جو آئینہ میں دکھائی دیتی ہیں۔ آئینہ بھی شئ ہے اورحقائق بھی بالذات شئ ہیں اورآئینہ میں تصویر کا حصول بھی شئ ہے، پس یہ تینوں اشیاء ہیں۔ 

    پس''علم''آئینہ میں کسی چیز کا حصول ہے اور''دل'' آئینہ کی مثال ہے اور''حقائق'' بالذات ایک تیسری چیز ہے ۔جب یہ معلوم ہوگیا تو جان لو! آئینہ میں صورت کے واضح نہ ہونے کے پانچ اسباب ہیں:

    پہلا سبب:آئینہ اچھا نہ ہواور وہ یہ ہے کہ ابھی اسے آئینہ کی شکل نہ دی گئی ہو اور نہ ہی پالش کیا گیا ہو۔ 

    دوسرا سبب: اس میں گدلا پن ہواورزنگ لگا ہواہو۔ 

    تیسرا سبب: جس چیز کو آئینہ میں دیکھنا ہو وہ اس سے ہٹی ہوئی ہو، وہ یوں کہ وہ چیز آئینہ کے پیچھے ہو۔ 

    چوتھا سبب : آئینہ اورصورت کے درمیان پردہ لٹکا دیا گیا ہو۔ 

    پانچواں سبب:جس چیز کی صورت دیکھنا مقصو د ہے اس کی سمت معلوم نہ ہو۔ 

    اسی طرح دل بھی ایک آئینہ ہے جسے اس مقصد کے لئے تیار کیا گیا ہے کہ اس میں تمام مامورات کے حقائق منکشف ہوں لیکن پانچ اسباب کی وجہ سے دل حقائق سے خالی ہوتا ہے۔ 

    پہلا سبب : دل میں ہی کمی اورنقصان ہو جیسے بچے اورپاگل کا دل۔ 

    دوسرا سبب:گناہوں کی کدورت اورخباثت جو خواہشات کی کثرت کی وجہ سے دل پر جمع ہوگئی ہو، اِسی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے فرمان میں اشارہ فرمایا:
کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ
ترجمۂ کنزالایمان : کوئی نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔(پ30،المطففین:14)

    اورسیِّدُ المبلّغِین،جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے :
''مَنْ قَارَفَ ذَنْبًا فَارَقَہ، عَقْلٌ لَمْ یَعُدْ اِلَیْہِ اَبَدًا
ترجمہ:جو شخص کوئی گناہ کرتاہے اس سے عقل جدا ہوجاتی ہے اور کبھی بھی اس کی طرف واپس نہیں لوٹتی۔''

    اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس برائی کے بعد نیکی کرے، جو اس کے دل کو صیقل (صاف)کردے اوراگر وہ گناہ کی بجائے نیکی کرے تو یقینادل کی روشنی بڑھے گی۔ 

    تیسرا سبب:یہ ہے کہ حقیقتِ مطلوبہ سے دل پھِرا ہو ا ہو اوراس کی توجہ صرف عبادات کی ترتیب کی طرف ہو ۔ اسے چاہے کہ وہ اس طرح ہوجائے جس طرح حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علیٰ نبیناوعلیہ الصلوٰۃو السلام نے ارشاد فرمایا جس کا ذکر
Flag Counter