Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
199 - 415
(1) اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ
ترجمۂ کنزالایمان:یہ ہیں وہ جن کے دلوں پراللہ نے مُہرکردی۔(پ26، محمّد:16)
(2) کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ
ترجمۂ کنزالایمان : کوئی نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔(پ30،المطففین:14)

میں مُہر اورزنگ سے یہی مراد ہے اور دل کی مثال آئینہ کی سی ہے۔ جب تک وہ زنگ اورگرد وغبار سے صاف رہتاہے، اس میں اشیاء دکھائی دیتی ہیں لیکن جب اس پر زنگ غالب آجاتاہے تو اسے صاف کرنا اوراس سے زنگ کو دور کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ وہ زنگ اس پر غالب آچکا ہوتاہے اوراس پر اس کی تہہ جم چکی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ ضائع ہوجاتاہے اور اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی صاف کرنے والا اسے صاف اوردرست نہیں کرسکتا ،مُہرا ورزنگ سے یہی مراد ہے۔

    حضور نبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:''بے شک دل کو بھی زنگ لگ جاتاہے جس طرح لوہے کو زنگ لگ جاتاہے۔'' عرض کی گئی: ''اس کی صفائی کیسے ہوگی ؟'' فرمایا: ''موت کو یاد کرنے اورقرآن ِپاک کی تلاوت کرنے سے۔''
       (شعب الایمان للبیھقی، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی ادمان تلاوتہ، الحدیث۲۰۱۴،ج۲،ص۳۵۲)
    جب دل کی حکمرانی مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہے تو شیطان حاکم بن جاتاہے اوراچھی صفات بُری صفات سے بدل جاتی ہیں۔

    نُور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرما نِ عا لیشان ہے: ''دل چار اقسام کے ہیں: (۱)وہ دل جو صاف ہے اوراس میں چراغ روشن ہوتاہے، یہ مؤمن کا دل ہے(۲)وہ دل جو سیاہ اوندھا ہوتاہے، یہ کافر کا دل ہے(۳)وہ دل جس پر غلاف چڑھا ہوتاہے اوراس کا غلاف بندھا ہوتاہے، یہ منافق کا دل ہے (۴)وہ دل جس میں ایمان اورنفاق کی آمیزش ہوتی ہے، اس میں ایمان اس سبزی کی مثل ہے جسے اچھا پانی نشوونما دیتاہے اوراس میں نفاق کی مثال اس زخم کی طرح ہے جسے پیپ بڑھاتی ہے، پس اس پر جو مادّہ غالب آجاتاہے اسی کا حکم اس پر لگایا جاتاہے۔اورایک روایت میں ہے کہ دل کو وہی (غالب آنے والا)مادہ لے جاتاہے۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی سعید الخدری، الحدیث۱۱۱۲۹،ج۴، ص۳۶بتغیرٍ)
    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿201﴾
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے، ہوشیار ہوجاتے، اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہيں۔(پ9،الاعراف:201)

    اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں اس بات کی خبر دی گئی ہے کہ ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے دل کی بصیرت اورصفائی حاصل ہوتی ہے اور تقویٰ سے ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ پر قدرت ہوتی ہے۔

    پس تقویٰ ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا دروازہ،ذکر ِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کشف کا دروازہ اورکشف بہت بڑی کامیابی کی کنجی ہے۔
Flag Counter