Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
198 - 415
ہو۔''تو وہ پیچھے ہو گئی۔
   (حیلۃ الاولیاء، سفیان بن عیینۃ، الحدیث۱۰۸۹۴،ج۷،ص۳۷۲)
    جب یہ بات واضح ہوگئی، کہ آیاتِ مقدّسہ اوراحادیث ِ مبارکہ میں مذکور قلب ، عقل ، روح اورنفس سے مراد ربّانی لطیفہ ہے، لہٰذاجب ہم انہیں مطلق ذکرکریں گے توہماری مراد یہی لطیفہ ہوگی۔ اس بات کو جان لو۔

    حضرت سیِّدُنا سہل تستری علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں : ''دل عرش (کی مثل) اورسینہ کرسی( کی طرح) ہے۔''

    یہ فرمان اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی دل سے مراد صنوبری شکل کے گوشت کے علاوہ کوئی اورچیز ہے۔
د ل کے لشکر:
    جب دل کے بارے میں معلوم ہوگیا تو اب ہم دل کے لشکروں کو بیان کرتے ہیں۔ دل کے لشکر دوقسم کے ہیں: ایک وہ لشکر جو آنکھوں سے دکھائی دیتاہے اوریہ ہاتھ، پاؤں ،آنکھ اور دیگر اعضاء ہیں ۔اوردوسرا وہ لشکر ہے جو بصیرت سے دکھائی دیتاہے (یعنی دل کی آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے ) اوریہ وہ صفات ہیں جن کا عنقریب ذکر ہوگا ۔

    اس پر نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کایہ فرمانِ نصیحت نشان بھی دلالت کرتا ہے: ''بے شک انسانی بدن میں ایک لوتھڑا ( یعنی گوشت کا ٹکڑا)ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو ساراجسم درست ہوجاتا ہے، سُن لو! وہ دل ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبراء لدینہ، الحدیث۵۲،ص۶)

(مسند ابی داؤد الطیالسی ،الجزء الثالث، النعمان بن بشیر، الحدیث۷۸۸،ص۱۰۶۔۱۰۷)
    دِل کو بادشاہ اورمخدوم ہونا چاہے ،نفس اورتمام اعضاء کو اس کے اَوامرونواہی کا تابع ہونا چاہئے ،لیکن اگر تمام اعضاء دل کے مطیع نہ ہوں اوران پر شہوت غالب ہو توامیر (یعنی دل)مامور بن جاتاہے اورمعاملہ اُلٹ ہوجاتاہے اور بادشاہ (یعنی دل) کسی کتے یا دشمن کے قبضہ میں قیدشخص کی طرح ہو جاتاہے۔چنانچہ جب آدمی حِرص یا شہوت کی پیروی کرتاہے تو حالتِ نیند یا بیداری میں گویا اپنے آپ کو خنزیر یاگدھے کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے اوریہی جعلی صوفیاء کی حالت ہے اوراگر وہ غصہ کی پیروی کرتاہے تو گویا اپنے آپ کو کتے کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ درحقیقت گدھے کی پیروی شہوت کی پیروی ہے اور خنزیر کی اطاعت حرص کی پیروی ہے اور جب آدمی اس حالت(یعنی خواہش وحرص کی پیروی) میں ہوتاہے تو وہ اپنے اوپر مسلّط شیطان کا پیروکار بن جاتاہے پس جب خواہشات کا تسلّط ان صفات کے ساتھ جو شیطان کے لشکر ہیں، دل پر طویل ہوجاتاہے تو اس لشکر کو شکست دینے کے لئے دل کی مدد نہیں کی جاتی اوردل عرصۂ دراز تک مغلوب رہتاہے اوروہ اس لطیفہ کی خاصیت کو ضائع کرنے کا سبب بن جاتاہے۔ احادیث میں دل کی سیاہی سے یہی مراد ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ان فرامین:
Flag Counter