| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
دوسرا معنی :یہ وہ ربّانی لطیفہ ہے، جو روح اورقلب کے دونوں معنی میں سے ایک ہے۔ اسی طرح نفس کا قلب وروح کے لفظ کے ساتھ اسی لطیفہ پر اِطلاق کیا جاتاہے اوریہی حقیقتِ انسان ہے، جس کی وجہ سے وہ تمام حیوانات سے ممتاز ہوتاہے۔
جب یہ صفات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے مزیّن ہوں اوراس سے بُری صفات وشہوات کے آثار ختم ہوجائیں، تو اسے نفسِ مطمئنّہ کہا جاتاہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمان سے بھی یہی مراد ہے،چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:یٰۤاَ یَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ ﴿27﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اے اطمینان والی جان۔ (پ30،الفجر:27)
اورنفس کے اس درجہ پر پہنچنے سے پہلے صفات کے اعتبار سے اس کے دودرجے ہیں۔ پہلے درجہ میں اسے نفس لوّامہ کہا جاتا ہے۔ اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے فرمان میں اسی کی قَسم اِرشادفرمائی ہے:وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اوراس جان کی قسم جو اپنے اوپر ملامت کرے۔ (پ29،القیٰمۃ:2)
اوراس سے مراد وہ نفس ہے ،جو گناہوں پر اپنے آپ کو ملامت کرتاہے اورگناہوں کی طرف مائل نہیں ہوتا،نہ ان سے خوش ہوتاہے اوراس درجہ پر پہنچنے سے پہلے ایک اوردرجہ ہے اوریہ برائی کا حکم دینے والا نفس (یعنی نفسِ امّارہ )ہے جس کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ﴿2﴾
ترجمۂ کنز الایمان : بے شک نفس تو برائی کا بڑا حکم دینے والا ہے ۔(پ13،یوسف:53)
اوریہ اس حالت پر ہوتاہے ،کہ نہ تو نیکی کا حکم دیتا اورنہ برائی پر ملامت کرتاہے اورنفس کا یہ درجہ نہایت قابلِ مذمت ہے اور مُطْمئنّہ بہترین نفس ہے اورلوّامہ ان دونوں کے درمیان ہے ۔نہ تو شر پر راضی ہوتاہے کہ اس کی طرف مائل ہو اورنہ ہی اطمینان کی طاقت رکھتا ہے کہ بھلائی کی طرف قرار پکڑے اور اس بھلائی سے مراد اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر ہے۔عقل کے معانی:
اس کے کئی معانی ہیں لیکن ہمارے یہاں اس سے مراد دو معانی ہیں۔
پہلا معنی: اشیاء کے حقائق کا علم۔
ٍ دوسرا معنی:عقل سے مراد وہ عالَم ہے جس کے لئے علم صفت کی طرح ہوتاہے اوراس معنی سے مراد وہ لطیفۂ ربّانی ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اورعقل سے پہلا معنٰی مراد لینا ممکن نہیں کیونکہ حضورنبئ کریم،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے عقل کو پیدا فرمایا پھر اس سے فرمایا:ـ''آگے بڑھ۔'' تووہ بڑھی، پھر فرمایا:'' پیچھے