| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جب یہ بات جان لی، تو یہ بھی سمجھ لو کہ اس(روحانی وربّانی) لطیفہ کا صنوبری شکل کے گوشت سے بہت گہرا تعلق ہے، جو بیان سے باہر ہے ،بلکہ یہ مشاہدہ اور عیان پر موقوف ہوتاہے اوراس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے ،کہ دل اس لطیفہ کے لئے بادشاہ کی طرح ہے اوریہ گوشت اس کے لئے گھر اورمملکت کی طرح ہے (اس لطیفہ کا دل سے اعراض جیساتعلق نہیں)کیونکہ اگر اس کا دل سے تعلق اَعراض کے تعلق کی طرح ہوتاتو اس کے بارے میں یہ فرمانِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ درست نہ ہوتا:
اَنَّ اللہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ
ترجمۂ کنزالایمان:اللہ کا حکم آدمی اوراس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتاہے ۔ (پ9،الانفال:24)
روح کے معانی:
روح کے بھی دو معانی ہیں ۔
پہلا معنی:روح طبیعہ ہے اوریہ دُھواں (یعنی لطیف جسم )ہے جس کا مرکز دل کے خلا میں سیاہ خون ہوتاہے اوردِل سے مراد صنوبری شکل کا گوشت ہے اوریہ شریانوں کے ذریعے تمام اجزاءِ بدن تک پہنچتاہے۔ اس کی مثال گھر میں رکھے ہوئے چراغ کی طرح ہے، جس سے گھر کے تمام کونے روشن ہوجاتے ہیں اور طبیب جب لفظِ روح بولتے ہیں ،تو اس سے یہی معنی مراد لیتے ہیں ۔
دوسرا معنی: یہ وہ ربّانی لطیفہ ہے ،جو حقیقتِ دل کا معنی ہے، روح اورقلب ایک ہی طریقے سے اس لطیفہ پر وارد ہوتے ہیں ،اسی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے اس فرمان میں اشارہ فرمایا ہے :وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الرُّوۡحِ ؕ قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ
ترجمۂ کنزالایمان :اورتم سے روح کو پوچھتے ہیں تم فرماؤ روح میرے رب کے حکم سے ایک چیز ہے ۔(پ15،بنیۤ اسرائیل:85)
نفس کے معانی:
اس کے بھی دو معانی ہیں۔
پہلا معنی:یہ وہ معنی ہے جو غضب، شہوت اور(انسان میں پائی جانے والی)مذموم صفات کی قوَّت کا جامع ہے ۔ حضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان سے بھی یہی مراد ہے:اَعْدٰی عُدُوِّکَ نَفْسُکَ الَّتِیْ بَیْنَ جَنْبَیْکَ
ترجمہ:تیرا سب سے بڑا دشمن تیرا نفس ہے،جوتیرے پہلوؤں کے درمیان ہے۔
(الزھد الکبیر للبیھقی،الجز الثانی، فصل فی ترک الدنیا ومخالفۃ النفس والھوی، الحدیث۳۴۳،ص۱۵۶۔۱۵۷)
(نفس سے دُشمنی )نفس سے جہادکرنا ہے۔اورنفس کی خواہشات کو توڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔