Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
195 - 415
حصَّہ سوَم

مُہْلِکَات

باب21:         عجائباتِ قلب کا بیان
رسولِ اکرم ،نورِ مجسّم، شاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :''بے شک ابنِ آدم کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہوجائے توساراجسم درست رہتاہے اوراس کے سبب تمام بدن درست ہو جاتاہے ،سنو! وہ دل ہے۔
 (مسند ابی داؤد الطیالسی، الجزء الثالث، النعمان بن بشیر، الحدیث۷۸۸،ص۱۰۶۔۱۰۷) 

(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب فضل من استبراء لدینہ ، الحدیث۵۲،ص۶)
    اس حدیثِ پاک سے ظاہر ہو ا کہ جسم میں اصل دل ہی ہے اوروہ امیر(یعنی نگران) ہے کہ ساراجسم اس کی اطاعت کرتاہے اورباقی سارے اعضاء رعایا کی طرح ہیں۔

    اب ہم قلب(یعنی دل) ، روح ، نفس اورعقل کے معنی بیان کرتے ہیں۔
قلب کے معانی:
    لفظ ِ قلب دو معنی پر بولاجاتاہے۔

    پہلا معنی: قلب یعنی دل: یہ ایک صنَوبری شکل(یعنی چلغوزہ کی طرح) کا گوشت ہے ،جو سینے کے بائیں جانب رکھا گیا ہے، جو اندر سے کھوکھلا ہے ، جس میں سیاہ خون ہوتاہے، یہ روح کا معدن اوراس کی جگہ ہے اوریوں ہی اسی شکل میں یہ گوشت جانوروں اورفوت شدہ لوگوں کے پاس بھی ہوتاہے۔

    دوسرا معنی: یہ ایک روحانی ربّانی لطیفہ(یعنی حقائق واسرارکی معرفت کامحل) ہے اوراس کا جسمانی قلب سے تعلق ہوتاہے اور یہی لطیفہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت رکھتاہے اوراس چیز کا اِدراک کرنے والا ہوتاہے ،جسے خیال ووہم نہیں سمجھ سکتے اور یہی حقیقتِ انسان ہے ، اسی کو خطاب ہوتاہے، اِسی معنی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں اشارہ کیا گیا ہے:
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لئے جو دل رکھتا ہو۔(پ26، ق: 37)

    اگر دل سے مراد صنوبری شکل کا گوشت ہو،تو یہ ہر شخص کے پاس موجودہوتا ۔
Flag Counter