لفظ ِ قلب دو معنی پر بولاجاتاہے۔
پہلا معنی: قلب یعنی دل: یہ ایک صنَوبری شکل(یعنی چلغوزہ کی طرح) کا گوشت ہے ،جو سینے کے بائیں جانب رکھا گیا ہے، جو اندر سے کھوکھلا ہے ، جس میں سیاہ خون ہوتاہے، یہ روح کا معدن اوراس کی جگہ ہے اوریوں ہی اسی شکل میں یہ گوشت جانوروں اورفوت شدہ لوگوں کے پاس بھی ہوتاہے۔
دوسرا معنی: یہ ایک روحانی ربّانی لطیفہ(یعنی حقائق واسرارکی معرفت کامحل) ہے اوراس کا جسمانی قلب سے تعلق ہوتاہے اور یہی لطیفہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت رکھتاہے اوراس چیز کا اِدراک کرنے والا ہوتاہے ،جسے خیال ووہم نہیں سمجھ سکتے اور یہی حقیقتِ انسان ہے ، اسی کو خطاب ہوتاہے، اِسی معنی کی طرف اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان میں اشارہ کیا گیا ہے:
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اس میں نصیحت ہے اس کے لئے جو دل رکھتا ہو۔(پ26، ق: 37)
اگر دل سے مراد صنوبری شکل کا گوشت ہو،تو یہ ہر شخص کے پاس موجودہوتا ۔