Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
189 - 415
    بے شک جنتی جنت میں نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبان (یعنی عربی زبان) میں گفتگوکریں گے۔
(المستدرک ،کتاب معرفۃ الصحابۃ ،باب لسان أھل الجنۃ عربی ،الحدیث۷۰۸۳،ج۵،ص۱۱۸)
     آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اختصارکے باوجودجامع کلام فرماتے جونہ توفضول ہوتا اورنہ اس میں کمی ہوتی ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایک بات مکمل کرنے کے بعددوسری بات ارشادفرماتے اور ٹھہرٹھہرکرگفتگوفرماتے یہاں تک کہ سننے والااسے یاد کر کے محفوظ کرلیتا۔
(الشمائل المحمدیۃ للترمذی ،باب کیف کان کلام رسول اﷲ ،الحدیث۲۱۵، ص۱۳۴۔۱۳۵، بتغیرٍ۔ جامع الترمذی ،ابواب المناقب ،باب قول عائشۃ کان یتکلم بکلام یبینہ فصل،الحدیث۳۶۳۹،ص۲۰۲۷،مفھوماً)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خوشی اورغضب دونوں حالتوں میں سچی بات فرماتے۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب العلم ،باب کتابۃ العلم ،الحدیث۳۶۴۶،ص۱۴۹۳،مفہومًا)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سب سے زیادہ تبسم فرماتے اورخوش رہتے جب تک قرآن نازل نہ ہورہاہوتایا قیامت کا تذکرہ نہ ہوتایاخطبہ وعظ نہ ہوتا۔
 (المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند الزبیر بن العوام ،الحدیث۱۴۳۷،ج۱،ص۳۵۴،مفہومًا۔ مکارم الاخلاق للطبرانی مع مکارم الاخلاق لابن ابی الدنیا ،باب فضل تبسم الرجل۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۲، ص۳۱۹)
    ایک دن ایک اَعرابی نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوااس وقت آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چہرہ انورکارنگ متغیرتھا،صحابہ کرام علیہم الرضوان اسے خلاف عادت سمجھتے تھے پس اَعرابی نے کچھ پوچھناچاہاتوصحابہ کرام نے اسے منع کردیااورفرمایا:ہم آپ کارنگ بدلاہوادیکھتے ہیں۔اعرابی نے کہا: مجھے پوچھنے دو اس ذات کی قسم جس نے آپ کونبی برحق بنا کر بھیجاہے! میں آپ کو ہنسائے بغیرنہ چھوڑوں گاچنانچہ اس نے عرض کی: یارسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! ہمیں خبر ملی ہے کہ مسیح دجّال لوگوں کے لئے ثرید(یعنی شوربے میں ملی ہوئی روٹی ) لائے گااورلوگ اس وقت بھوک سے مررہے ہوں گے، میرے ماں باپ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پرقربان ہوں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے کیا فرماتے ہیں کہ میں اس ثرید کے کھانے سے رکا رہوں اوراس سے بچتے ہوئے کمزورہوکرمرجاؤں یامیں اس کے ثریدسے کھاؤں یہاں تک کہ جب خوب سیرہوجاؤں تواللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لاؤں اور دجّال کاانکارکردوں؟صحابہ کرام علیہم الرضوان فرماتے ہیں :یہ سن کرنبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس قدر ہنسے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی داڑھیں مبارک ظاہرہوگئیں پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''نہیں ،بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ جس چیزکے ساتھ دوسرے مسلمانوں کوبے نیازکریگاتجھے بھی مستغنی کر دے گا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الفتن ،باب ذکر الدجال ،الحدیث۷۱۲۲،ص۵۹۴،مفھوماً)
    جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوکوئی مسئلہ پیش آتاتواسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپردکردیتے اوراپنی قوت اورطاقت سے
Flag Counter