Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
188 - 415
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اٹھتے بیٹھتے اللہ عَزَّوَجَلَّ کاذکرکرتے ۔
(الشمائل المحمدیۃ للترمذی ،باب ماجاء فی تواضع رسول اﷲ ،الحدیث۳۱۹،ص۱۹۳)
    جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نماز پڑھ رہے ہوتے اورکوئی شخص آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے انتظارمیں بیٹھاہوتاتوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نمازمختصرکرکے اس کی طرف متوجہ ہوتے اورپوچھتے کیاتمہیں کوئی کام ہے؟پھرجب اس کے کام سے فارغ ہوتے توباقی نمازپڑھتے۔
 (الشفاء للقاضی عیاض،الباب الثانی فی تکمیل محاسنہ ،فصل وأما حسن عشرتہ، ج۱، ص۱۲۲)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بیٹھنے کا طریقہ عموماًیہ تھاکہ دونوں پنڈلیوں کواکٹھا کھڑاکرکے بیٹھتے (اوردونوں ہاتھوں سے اس کے گردگھیراڈال لیتے)۔ صحابۂ کرام علیہم الرضون کی مجلس میں آپ کی نشست ممتاز نہ تھی کیونکہ جہاں مجلس ختم ہوتی آپ وہیں تشریف فرما ہو جاتے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اکثررُوقبلہ ہوکربیٹھتے اورآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس جوبھی آتااس کی عزت فرماتے یہاں تک کہ جس کے ساتھ آپ کا قرابت یارضاعت کارشتہ نہ بھی ہوتااس کے لئے بھی چادربچھادیتے اوراسے اس پر بٹھاتے۔
(الشفاء للقاضی عیاض،الباب الثانی فی تکمیل محاسنہ ،فصل وأما حسن عشرتہ ،ج۱،ص۱۲۲،مختصرًا)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آنے والے کواپنابچھوناپیش کرتے۔
(الشفاء للقاضی عیاض،الباب الثانی فی تکمیل محاسنہ ،فصل وأما حسن عشرتہ ،ج۱،ص۱۲۲)
    اگروہ انکارکرتاتو اسے اصرارکرکے بٹھاتے،جب آپ اپنی مجلس ختم فرماتے تویہ پڑھتے:
''سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْہَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلاَّاَنْتَ وَحْدَکَ لاَشَرِیْکَ لَکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ
ترجمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! تو پاک ہے اورتیرے لئے ہی حمدہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سواکوئی معبودنہیں، تواکیلاہے ،تیراکوئی شریک نہیں، میں تجھ سے بخشش مانگتاہوں اورتیری طرف رجوع کرتاہوں۔''پھرفرماتے: یہ کلمات مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بتائے ہیں۔''
(السنن الکبری للنسائی،کتاب عمل الیوم واللیلۃ،باب کفارۃمایکون فی المجلس،الحدیث۱۰۲۶۱،ج۶،ص۱۱۳، بدون''وحدک لا شریک لک'')
رسولِ خداعَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی گفتگواورتبسّم:
    حضور نبئ کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تمام لوگوں سے بڑھ کرفصیح وبلیغ اورسب سے زیادہ شیریں گفتگو فرماتے۔ چنانچہ،شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم و رضی اللہ تعالیٰ عنہاکافرمانِ فصاحت نشان ہے:''اَنَااَفْصَحُ الْعَرَبِ ترجمہ:میں اہل عرب میں سب سے زیادہ فصیح ہوں۔''
  (المعجم الکبیر ،الحدیث۵۴۳۷،ج۶،ص۳۶،'' أفصح''بدلہ'' أعرب'')
Flag Counter