آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس جوبھی آزاد،غلام یالونڈی آتی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کی حاجت پوری کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے۔
(سنن النسائی ،کتاب الجمعۃ ،باب ما یستحب من تقصیر الخطبۃ ،الحدیث۱۴۱۵، ص۲۱۸۰۔سنن ابن ماجۃ ،ابواب الزھد ،باب البراء ۃ من الکبر والتواضع ،الحدیث۴۱۷۷،ص۲۷۳۱)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری سے پہلے تورات شریف کی پہلی سطرمیں ان اوصاف کے ساتھ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی صفت بیان کی،فرمایا: ''محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ کے رسول،میرے پسندیدہ بندے ہیں، نہ سخت مزاج اورنہ سختی کرنے والے ہيں ،نہ بازاروں میں چیخنے والے اورنہ برائی کابدلہ برائی سے دینے والے۔ بلکہ درگزر کرتے اور معاف کرتے ہیں،ان کی ولادت مکۂ مکرمہ میں ہوگی اورمدینۂ منورہ کی طرف ہجرت کریں گے اوران کی حکومت شام میں بھی ہوگی اورتہبند باندھيں گے ،وہ اوران کے صحابہ قرآن اورعلم کے محافظ ہوں گے، وضومیں ہاتھ اور پاؤں دھوئيں گے۔''
انجیل میں بھی اسی طرح آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اوصاف مذکور ہیں۔
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عادت مبارکہ تھی کہ جس سے ملاقات ہوتی توسلام میں پہل فرماتے۔
(شعب الایمان للبیھقی ،باب فی حب النبی ،فصل فی خَلْقہ وخُلُقہ ،الحدیث۱۴۳۰،ج۲،ص۱۵۵)
جب کوئی شخص کسی کام کے لئے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوٹھہراتاتوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ٹھہرے رہتے یہاں تک کہ وہ پہلے چلا جاتا۔
(المعجم الکبیر ،الحدیث۴۱۴،ج۲۲،ص۱۵۸)
جب کوئی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاہاتھ پکڑتاتوجب تک وہ نہ چھوڑتاآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نہ چھوڑتے۔
(جامع الترمذی ،ابواب صفۃ القیامۃ ،باب تو اضعۃ مع جلیسہ ،الحدیث۲۴۹۰،ص۱۹۰۲)
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم جب اپنے کسی صحابی سے ملاقات فرماتے تومصافحہ کرنے میں پہل فرماتے پھر اس کاہاتھ پکڑ کرانگلیوں میں انگلیاں ڈال لیتے اورخوب مضبوطی سے پکڑتے ۔
(سنن ابی داؤد،کتاب الادب،باب فی المعانقۃ، الحدیث۵۲۱۴،ص۱۶۰۴۔صحیح مسلم ،کتاب صفات المنافقین،باب ابتداء الخلق وخلق آدم علیہ السلام، الحدیث۷۰۵۴،ص۱۱۶۴۔معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ،ذکر النوع العاشر علوم الحدیث،ص۳۳)