اپنے پیچھے اپنے غلام یاکسی دوسرے شخص کوسوار کرلیتے۔
(صحیح البخاری ،کتاب الحج ،باب الرکوب والارتداف فی الحج ،الحدیث۱۵۴۳/۱۵۴۴،ص۱۲۱)
جوسواری مل جاتی اس پرسوارہوجاتے کبھی گھوڑے پر،کبھی سیاہی مائل سفیدخچر پر،کبھی گدھے پر،کبھی پیدل ننگے پاؤں بغیر چادراورعمامہ وٹوپی کے چل پڑتے۔
(صحیح البخاری ،کتاب الجھاد ،باب الفرس القطوف ،الحدیث۲۸۶۷،ص۲۳۱)
(ایضًا، باب بلغۃ النبی البیضاء ،الحدیث۲۸۷۴،ص۲۳۱)(ایضًا،باب الردف علی الحمار،الحدیث۲۹۸۷،ص۲۴۰)
(ایضًا،کتاب فضل الصلاۃ فی مسجد مکۃ والمدینۃ ،باب اتیان مسجد ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث ۱۱۹۴،ص ۳ ۹)
(صحیح مسلم ،کتاب الجنائز باب فی عیادۃ المرضی ،الحدیث۲۱۳۸،ص۸۲۳)
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مدینہ کے آخری کنارے تک بیماروں کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے ۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم خوشبوکوپسنداوربدبوکوناپسندفرماتے۔
(سنن النسائی ،کتاب عشرۃ النساء ،باب حب النساء ،الحدیث۳۳۹۱،ص۲۳۰۷)
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند السیدۃ عائشۃ ،الحدیث۲۶۱۷۹،ج۱۰،ص۹۹)
(سنن ابی داؤد ،کتاب العلم ،باب فی القصص ،الحدیث۳۶۶۶،ص۱۴۹۴)
مساکین کو اپنے ساتھ کھانا کھلاتے ۔
(صحیح البخاری ،کتاب الرقاق ،باب کیف کان عیش النبی ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۶۴۵۲،ص۵۴۲،مفھوماً)
اخلاقی اعتبارسے افضل لوگوں کی عزت کرتے اوراہل شرف کے ساتھ نیکی کرکے انہیں مانوس فرماتے۔
(الشمائل المحمدیۃ للترمذی ،باب ماجاء فی تواضع رسول اﷲ ،الحدیث۳۱۹،ص۱۹۱تا۱۹۳،مفھوماً)
صلہ رحمی فرماتے لیکن ان کوان سے افضل لوگوں پر تر جیح نہ دیتے۔
(المستدرک ،کتاب معرفۃ الصحا بۃ ،ذکر فداء العباس یوم بدر،الحدیث۵۴۶۱،ج۴،ص۳۸۸)
کسی پرظلم وزیادتی نہ کرتے۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی حسن العشرۃ ،الحدیث۴۷۸۹، ص۱۵۷۶، مفھوماً)
عذرپیش کرنے والے کاعذرقبول فرماتے۔
(صحیح البخاری ،کتاب المغازی ،باب حدیث کعب بن مالک ،الحدیث۴۴۱۸،ص۳۶۳،مفھوماً)
ہنسی مزاح فرماتے مگر حق بات کہتے۔
(جامع الترمذی ،ابواب البروالصلۃ ،باب ماجاء فی المزاح ،الحدیث۱۹۹۰، ص۱۸۵۱)