Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
184 - 415
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے نعلین مبارک خودگانٹھتے،اورکپڑوں میں پیوندلگاتے اورگھرکے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث ۲۵۳۹۶،ج۹،ص۵۱۹)
    اہل خانہ کے ساتھ گوشت کاٹتے ۔
(المرجع السابق، مسند السیدۃ عائشۃ ،الحدیث۲۴۶۸۵،ج۹،ص۳۸۶مفھوماً)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سب سے بڑھ کرباحیاء تھے،آپ کی نگاہ کسی کے چہرے پرنہ ٹھہرتی تھی ۔
(صحیح البخاری ،کتاب الادب ،باب الحیاء ،الحدیث:۶۱۱۹، ص۵۱۶، بدون''لایثبت بصرہ فی وجہ أحد'')
    غلام اورآزاد سب کی دعوت قبول فرماتے۔
(جامع الترمذی، ابواب الجنائز، باب آخر فی سنۃ عیادۃ المریض۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۱۰۱۷،ص۱۷۴۸،بدون الحر)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہدیہ قبول فرماتے،اگرچہ دودھ کا ایک گھونٹ یاخرگوش کی ران ہوتی،اوربدلے میں تحفہ عطافرماتے ،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہدیہ تناول فرماتے۔
(صحیح البخاری ،کتاب الھبۃ ،باب المکافاۃ فی الھبۃ ،الحدیث۲۵۸۵،ص۲۰۳۔المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ ،الحدیث۲۵۰۶۴،ج۹،ص۴۵۶۔صحیح مسلم ،کتاب الصید ،باب اباحۃ الأرنب ،الحدیث۵۰۴۸،ص۱۰۲۶)
     لیکن صدقہ نہیں کھاتے تھے۔
(سنن ابی داؤد ،کتاب الدیات ،باب فیمن سقی رجلا ۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۴۵۱۲، ص۱۵۵۴)
    کسی لونڈی اورمسکین کی دعوت قبول فرمانے سے اعراض نہ فرماتے تھے۔
(سنن النسائی ،کتاب الجمعۃ ،باب ما یستحب من تقصیر الخطبۃ ،الحدیث۱۴۱۵،ص۲۱۸۰،مفھوماً)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے غصہ فرماتے آپ کواپنی ذات کے لئے غصہ نہ آتاتھا۔
(الشمائل المحمدیۃ  للترمذی ،باب کیف کان کلام رسول اﷲ ،الحدیث۲۱۵،ص۱۳۵،بدون''ویغضب لربہ'')
    کبھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بھوک کی وجہ سے اپنے شکمِ اقدس پر پتھرباندھتے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند جابر بن عبد اﷲ ،الحدیث۱۴۲۲۴،ج۵،ص۲۴،بتغیرٍ)
   کبھی جوکچھ مل جاتاتناول فرمالیتے ،جو ملتااسے ردنہ فرماتے،اور حلال چیزکھانے سے اجتناب نہ فرماتے۔
 (جامع الترمذی ،ابواب الأطعمۃ ،باب ماجاء فی الخل ،الحدیث۱۸۴۱،ص۱۸۳۸،مفھوماً)
    آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوجولباس میسرہوتازیب تن فرماتے،کبھی شملہ(یعنی چھوٹی چادر)کبھی یمنی چادراورکبھی اُونی جبہ پہنتے جوبھی مباح لباس میسرہوتاپہن لیتے ۔
 (صحیح البخاری ،کتاب اللباس ،باب البرود۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۵۸۱۰/۵۸۱۳/ ۵۷۹۹، ص۴۹۶ /۴۹۵،مفھوماً)
Flag Counter