Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
183 - 415
    اسی طرح نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندوں کوآداب سکھائے اورانہیں اچھے اخلاق اورعمدہ آداب کی دعوت دی۔
حضورصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے اخلاق عالیہ کابیان
یہ اخلاقِ حمیدہ علماء کرام علیہ رحمۃ اللہ المبین نے احادیث سے اخذ کئے۔

    چنانچہ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ'' نبئ کریم،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تمام لوگوں سے زیادہ برد بار تھے۔''
(أخلاق النبی علیہ السلام لابی الشیخ الاصبہانی،باب ما روی فی کظمہ الغیظ وحلمہ ،الحدیث۱۶۸،ج۱،ص۱۸۰)
    سب سے زیادہ بہادرتھے ۔
   (صحیح مسلم ،کتاب الفضائل ،باب شجاعتہ  ،الحدیث ۶۰۰۶، ص ۸۵ ۱۰)
    سب سے بڑھ کرعادل تھے۔
(الشمائل المحمدیۃ  للترمذی ،باب ماجاء فی تواضع۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث۳۱۹،ص۱۹۳،مفھوماً)
     آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تمام لوگوں سے زیادہ معاف فرمانے والے تھے۔(حدیث ِ پاک میں ہے)''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کبھی بھی ایسی عورت کو ہاتھ نہیں لگایاجوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی لونڈی نہ ہویاآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے نکاح میں نہ ہویاوہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی محرم نہ ہو۔''
 (صحیح البخاری ،کتاب الطلاق ،باب اذا اسلمت المشرکۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۵۲۸۸، ص۴۵۷، بتغیرٍ قلیلٍ)
     آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے۔
(المعجم الاوسط ،الحدیث۶۸۱۶،ج ۵، ص۱۳۱،مفہوماً)
     آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس کوئی درہم ودیناررات کے وقت نہیں بچتے تھے اگرکوئی بچ جاتااورکوئی لینے والانہ ہوتا تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس وقت تک گھرمیں داخل نہ ہوتے جب تک آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم محتاج لوگوں کودے کراس سے بری الذمہ نہ ہوجاتے۔
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الخراج ،باب فی الامام یقبل ھدایا۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث۳۰۵۵، ص۱۴۵۳، مختصرًا)
     اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جوکچھ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوعطافرمایاآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس سے صرف ایک سال کی غذا حاصل کرتے،اور وہ بھی سب سے زیادہ ارزاں(یعنی سستے) کھجوریں اورجَوہوتے۔باقی سب کچھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں صدقہ فرمادیتے۔
    (صحیح مسلم ،کتاب الجھاد ،باب حکم الفیء ،الحدیث۴۵۷۵،ص۹۸۹،مختصرًا)
    جب بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے کوئی چیزبھی مانگی جاتی عطافرماتے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند انس بن مالک بن النضر ،الحدیث۱۳۹۷۷،ج۴،ص۵۵۶)
    پھر اپنے سال بھر کی خوراک میں سے مانگنے والوں کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے یہاں تک کہ بعض اوقات سال پورا ہونے سے پہلے خوراک ختم ہوجاتی اور اگر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں کوئی چیز نہ پیش کی جاتی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم صبر فرماتے۔
Flag Counter