Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
182 - 415
 علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:''بےشک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسلام کواچھے اخلاق اورعمدہ اعمال سے ڈھانپاہے اوراچھاسلوک کرنا، اچھاعمل کرنا،نرم گفتگوکرنا،نیکی کرنا،کھاناکھلانا،سلام کو عام کرنا،مسلمان مریض کی عیادت کرناخواہ وہ نیک ہویافاسق و فاجر ، مسلمان کے جنازے میں شریک ہونا، مسلمان یاکافرپڑوسی کے ساتھ اچھاسلوک کرنا،بوڑھے مسلمان کی عزت کرنا، کھانے کی دعوت قبول کرنا،مہمان کے لئے دعاکرنا،معاف کرنا،صلح کرانا،سخاوت، کرم نوازی،بخشش کرنا،سلام میں ابتداء کرنا،غصہ پر قابو رکھنااورلوگوں کومعاف کرنا حسنِ اخلاق سے ہے۔''

    اسلام کاحسن ان چیزوں سے ختم ہوجاتا ہے:'' کھیل کود، گانے بجانے کے تمام آلات،ہرکینہ وعیب کی بات،جھوٹ، غیبت، بخل،کنجوسی،جفا،دھوکا، مکر وفریب ،چغلی،لوگوں کے درمیان بگاڑپیداکرنا،قطع رحمی،بداخلاقی،تکبر،فخر،شیخی بگھارنا، اِترانا، مذاق کرنا،فحش باتیں کرنااورسننا،کینہ، حسد،بدفالی،سرکشی،دشمنی اورظلم کرنا۔

    حضرت سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحروبَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہمیں خیرخواہی کی ہر بات بتائی اوراس کاحکم دیااورہر کھوٹ یاعیب سے ہمیں ڈرایااوراس سے منع فرمایا اور ان سب کے متعلق یہ آیت کافی ہے:
اِنَّ اللہَ یَاۡمُرُ بِالْعَدْلِ وَالۡاِحْسَانِ وَ اِیۡتَآیِٔ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْہٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنۡکَرِ وَ الْبَغْیِ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللہ حکم فرماتاہے انصاف اور نیکی اوررشتہ داروں کے دینے کا اورمنع فرماتاہے بے حیائی اوربری بات اورسرکشی سے۔  (پ14،النحل:90)

    حضرت سیِّدُنامعاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المُبلِّغِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے وصیت فرماتے ہوئے ارشادفرمایا: ''اے معاذ!میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے،سچ بولنے،وعدہ پوراکرنے،امانت کی ادائیگی، خیانت نہ کرنے،پڑوسی کی حفاظت،یتیم پررحم کرنے،نرم گفتگوکرنے،سلام پھیلانے ،اچھا عمل کرنے،امیدکم رکھنے،ایمان پر قائم رہنے،قرآن مجیدکی سمجھ حاصل کرنے ، آخرت سے محبت کرنے،حساب وکتاب سے ڈرنے اورعاجزی وانکساری کرنے کی وصیت کرتاہوں اورتمہیں کسی داناکوگالی دینے،کسی سچے کوجھٹلانے،گنہگارکی اطاعت کرنے،امام عادل کی نافرمانی کرنے،اور زمین میں فسادپھیلانے سے منع کرتاہوں اور ہرپتھر،درخت اورڈھیلے کے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں نیزہرگناہ سے توبہ کرنے،پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ اوراعلانیہ گناہ کی اعلانیہ توبہ کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔''
(حلیۃ الاولیاء ،معاذ بن جبل ،الحدیث۸۱۳،ج۱،ص۳۰۴، بتغیرٍ)
Flag Counter