جان لیجئے !اس قسم کی آیات قرآن مجیدمیں بکثرت موجود ہیں اوران کامقصودِاوّل ادب اورتہذیب ہے پھراسی سے تمام مخلوق پر نورچمکا۔
حضورنبئ پاک، صاحب ِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:
''بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ
ترجمہ:مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجاگیاہے۔''
(السنن الکبری للبیھقی ،کتاب الشھادات ،باب بیان مکارم الاخلاق۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۲۰۷۸۲،ج۱۰،ص۳۲۳)
امیر المؤمنین مولیٰ مشکل کشاحضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں:''اس مسلمان پرتعجب ہے جس کا مسلمان بھائی اس کے پاس کسی حاجت کے لئے آئے اوروہ اپنے آپ کواس کے ساتھ بھلائی کے قابل نہ سمجھے، اگر اسے ثواب کی امیداورعذاب کاڈرنہ ہوتواسے اچھے اخلاق کی طرف جلدی کرنی چاہے کیونکہ یہ اخلاق راہ نجات پردلالت کرتے ہیں۔ایک شخص نے پوچھا: آپ نے یہ بات نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنی ہے؟آپ نے فرمایا:ہاں! جب آپ کے پاس''قبیلہ طَیّ''کے قیدی لائے گئے۔ ان میں ایک لڑکی نے کھڑے ہوکر عرض کی:اے محمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !آپ مناسب سمجھیں تومجھے رہاکردیں اورمجھ پرقبائل عرب کونہ ہنسائیں کیونکہ میں اپنی قوم کے سردارکی بیٹی ہوں اوربے شک میرا باپ قوم کی حفاظت کرتا،قیدیوں کورہاکرواتا،بھوکوں کوجی بھر کر کھاناکھلاتا،سلام کو عام کراتااور کسی مانگنے والے کاسوال ردنہ کرتا،میں حاتم طائی کی بیٹی ہوں،نبئ کریم،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''اے لڑکی!یہ سچے مؤمنین کی صفات ہیں،اگرتمہاراباپ مسلمان ہوتاتو ہم اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے رحمت کی دعامانگتے،اورفرمایا:اس کورہاکردو،اس کاباپ اچھے اخلاق کوپسندکرتا تھا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ اچھے اخلاق کوپسندفرماتاہے اورفرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! اچھے اخلاق والاہی جنت میں داخل ہوگا۔''
(دلائل النبوۃ للبیھقی ،باب وفد طیئ۔۔۔۔۔۔الخ ،ج۵،ص۳۴۱)
حضرت سیِّدُنا معاذبن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ