فاروق اوراس کی آل سے بہترہے، کیا میں ان کی اس رات اوردن کوتمہارے سامنے بیان نہ کروں؟میں نے عرض کیا:جی ہاں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:وہ رات جب نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مشرکین کی وجہ سے مکہ مکرمہ سے ہجرت کاارادہ فرمایاتورات کے وقت نکلے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ہمراہ تھے، آپ کبھی نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے آگے ہوجاتے، کبھی پیچھے،کبھی دائیں طرف چلتے کبھی بائیں طرف۔
نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسارفرمایا:''اے ابوبکر!یہ کیاہے؟تم نے ایساکبھی نہیں کیا۔''انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! جب میں خیال کرتا ہوں کوئی گھات لگائے نہ ہوتوآپ کے آگے ہوجاتاہوں اور جب سوچتاہوں کہ کوئی پیچھانہ کررہاہوتوپیچھے ہوجاتاہوں اور کبھی دائیں طرف اورکبھی بائیں طرف ہوجاتاہوں،مجھے آپ کے بارے میں فکرہوتی ہے نبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس رات پاؤں مبارک کی انگلیوں کے بل چلے یہاں تک کہ وہ دُکھنے لگیں۔جب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناصدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی انگلیوں کی یہ حالت دیکھی توآپ کوکندھوں پر اٹھا لیا اور دوڑ پڑے یہاں تک کہ غارکے دہانے پرآپہنچے اور آپ کواتارااورعرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجا! جب تک میں اس غار میں داخل نہ ہوجاؤں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم داخل نہ ہوں گے تاکہ اگروہاں کوئی موذی چیزہوتو اس کانقصان مجھے پہنچے، بیان کرتے ہیں پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ داخل ہوئے تووہاں کوئی چیزنہ دیکھی چنانچہ آپ کواٹھاکراندرلے گئے ۔
غارمیں ایک سوراخ تھاجس میں سانپ اوربچھوتھے۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر اپناپاؤں رکھ دیاتاکہ کوئی سانپ وغیرہ نکل کرنبی اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوتکلیف نہ پہنچائے، اس سے سانپ نکل کرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوڈستے رہے اورتکلیف کی وجہ سے آپ کے آنسورخسارمبارک پر گرنے لگے تونبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''اے ابوبکر!غم نہ کر،اللہ عَزَّوَجَلَّ ہماے ساتھ ہے۔ پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سکون واطمینان اتارا، تویہ آپ کی وہ رات تھی ۔اورآپ کادن وہ ہے جب رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا وصالِ ظاہری ہواتو بعض عرب قبائل مرتدہوگئے، بعض نے کہا:ہم نمازنہیں پڑھیں گے اوربعض نے کہا:ہم زکوٰۃ نہ دیں گے، میں آپ کے پاس مشورہ دینے کی غرض سے آیا،
میں نے کہا:اے خلیفۂ رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !لوگوں سے الفت اورنرمی کابرتاؤکیجئے، آپ نے فرمایا:کیادور جاہلیت میں سخت اوراسلام میں نرم ہوگئے ہو؟میں کس وجہ سے ان سے نرمی برتوں؟نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کاوصال ظاہری ہو گیا اور وحی کاسلسلہ بندہوگیا۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!اگروہ مجھے ایک رسی بھی نہ دیں گے جو رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ