Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
177 - 415
الْجِہَادِکَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ
ترجمہ: افضل جہادظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے ۔''
 (المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند ابی سعید الخدری ،الحدیث۱۱۱۴۳،ج۴،ص۳۹)
    اگر کلمۂ حق کہنے والا اس وجہ سے قتل کر دیاجائے توشہیدہے۔ جیسا کہ احادیث ِ مبارکہ میں مروی ہے۔

    حضرت سیِّدُناضَبَّہ بن مُحْصِن عَنْزِی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اَشعَرِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بصرہ میں ہمارے امیرتھے۔ جب بھی وہ خطبہ دیتے تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثناء اور نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر درود بھیجتے، اس کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے دعاکرتے۔اس پر مجھے بہت غصہ آیا،میں نے ان کے پاس جا کر کہا:آپ ان کے رفیق( یعنی حضرت سیِّدُناابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ)کوچھوڑکر امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان پر فضیلت دیتے ہو؟انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کومیری شکایت لکھ بھیجی اورلکھا: ضبہ بن محصن میرے خطبہ میں دخل اندازی کرتا ہے ۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں لکھاکہ اسے میری طرف بھیج دیں۔ آپ فرماتے ہیں: انہوں نے مجھے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجامیں آپ کے پاس گیا، دروازہ کھٹکھٹایاتوآپ تشریف لائے اورپوچھا:کون؟میں نے عرض کی:میں ضبہ بن محصن عنزی ہوں۔

    آپ نے فرمایا:''تمہارے لئے مرحبا نہیں۔میں نے عرض کی: مرحبا تو خداعَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے اورجہاں تک اہل کا تعلق ہے تومیرے پاس نہ اہل ہے نہ مال۔ لیکن اے عمر !آپ بتائیں کہ آپ نے مجھے کیوں کسی غلطی اورقصور کے بغیربصرہ سے بلایا؟ آپ نے فرمایا:میرے عامل اورتیرے درمیان کیاجھگڑاہے؟آپ فرماتے ہیں ،میں نے کہا:میں آپ کوبتاتاہوں کہ جب وہ خطبہ دیتے ہیں تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدوثناء اور نبئ کریم،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پردرودبھیجتے ہیں پھرآپ کے لئے دعا کرتے ہیں ۔مجھے اس پر غصہ آیا،میں نے اٹھ کرپوچھا:آپ نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوان کے رفیق (امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ)پرفضیلت کیوں دی ہے؟ انہوں نے چندجمعے ایساہی کیا، پھرآپ کے پاس میری شکایت لکھ بھیجی۔

    یہ سن کرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اورفرمانے لگے: اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!تم اس کی نسبت زیادہ توفیق دئیے گئے اور زیادہ ہدایت یافتہ ہو،کیاتم میراقصورمعاف کرسکتے ہو؟اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری مغفرت فرمائے۔ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی مغفرت فرمائے۔''ضبہ بن محصن بیان کرتے ہیں کہ پھرآپ نے روناشروع کردیااورفرمایا:اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک رات اورایک دن عمر
Flag Counter