Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
176 - 415
میں غلطی کرے تو ان جیسوں کوروکناواجب ہے اوریہ ایک افضل نیکی ہے اور نوافل پڑھنے سے بہترہے۔ ان خرابیوں میں سے مؤذنین کا اذان کوزیادہ کھینچ کرپڑھنا، لمباکرنااورکلمات کواس قدرلمباکھینچناکہ وہ اپنی حد سے نکل جائیں۔۱؎اور طلوعِ فجرکے بعد ایک ہی مسجد میں ایک سے زیادہ باراذان کہنا کیونکہ اس میں کوئی فائدہ نہیں اوران خرابیوں میں سے ایسے کپڑے پہننا بھی ہے جن پر ریشم غالب ہو اور ان ''قصہ گوؤں''کاکلام بھی ہے جس میں وہ بدعات کوملاتے ہیں اورجمعہ کے دن دوائیں اور تعویذات بیچنے کے لئے حلقے بنانابھی انہیں میں شامل ہے۔جوخرابیاں ہم نے ذکرکی ہیں ان جیسی اورخرابیاں بھی ہیں لیکن ان کو شمار کرنا ہمار ا مقصد نہیں۔
بادشا ہوں کو نیکی کی دعوت

د ینا اور برائی سے منع کرنا

احتساب کے درجات:
 جانناچاہے !احتساب کے چاردرجے ہیں:(۱)برائی سے آگاہ کرنا(۲)وعظ کرنا(۳) سخت بات کہنااور(۴) سختی سے روکنا۔

    امراء وسلاطین کو آگاہ کرنااوروعظ و نصیحت کرناہے کیونکہ ان سے سخت بات کرنایاسختی سے روکنافتنہ برپاہونے کاسبب ہے جس کی وجہ سے ایسی شرانگیزی ہوگی جوان کی اپنائی ہوئی برائی سے بھی زیادہ بری ہوگی۔ ہاں! ا گر معلوم ہوکہ سخت گفتگوفائدہ مندہوگی اورشرانگیزی کاباعث نہ ہوگی توپھرکوئی حرج نہیں اوروہ انہی میں سے ہے جو ان باتوں کی پرواہ نہیں کرتااس پرتاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت،محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کایہ فرمان دلالت کرتاہے:
خَیْرُ الشُّہَدَاءِ حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلَبِ،ثُمَّ رَجُلٌ قَامَ اِلٰی اِمَامٍ فَاَمَرَہ، وَنَھَاہ، فِیْ ذَاتِ اللہِ عَزَّوَجَلَّ فَقَتَلَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ۔
ترجمہ:شہداء میں سب سے افضل حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں پھر وہ شخص ہے جس نے حاکم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی فرمانبرداری کاحکم دیااور اس کی نافرمانی سے منع کیا پس اس وجہ سے حاکم نے اسے قتل کر دیا۔
(تاریخ بغداد ،الرقم۳۰۷۸۔ابراہیم بن جابر بن عیسیٰ أبو اسحاق غِطْرِیفی ،ج۶،ص۵۰، مختصرًا)
    اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے: ''اَفْضَلُ
۱؎: صدر الشریعہ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی بہار شریعت، حصہ۳، ص ۳۶ پر نقل فرماتے ہيں: ''کلمات اذان میں لحن حرام ہے، مثلاً اللہ یا اکبر کے ہمزے کو مدکے ساتھ آللہ یا آکبر پڑھنا، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف بڑھانا حرام ہے۔''
 (بحوالہ الدرالمختار،کتاب الصلٰوۃ،باب الاذان، ج۲،ص۶۳)
Flag Counter