Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
175 - 415
گا اس پر دلیل یہ روایت ہے کہ مروان بن حکم نے نماز ِعیدسے پہلے خطبہ دیاتوایک شخص نے کہا:''خطبہ نمازکے بعدہوتاہے۔'' مروان نے کہا:''اے فلاں!یہ کام چھوڑدیاگیاہے۔''حضرت سیِّدُنا ابوسعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''اس شخص نے اپنافرض پوراکیاہے، رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہمیں ارشادفرمایا:
مَنْ رَاٰی مُنْکَرًا فَلْیُنْکِرْہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَذَالِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔
ترجمہ:جوشخص برائی کودیکھے تواسے اپنے ہاتھ سے روکے اگراس کی طاقت نہ ہوتوزبان سے روکے اوراگراس کی طاقت نہ ہوتو دل میں بُرا جانے اوریہ ایمان کاکمزورترین درجہ ہے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند ابی سعید الخدری ،الحدیث۱۱۸۷۶،ج۴،ص۱۸۴، بتغیرٍ)
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احتساب کے مختلف مراتب ہیں۔

    آخری شرط:وہ محتسب فیہ ہے اوریہ دوسرارکن ہے ہروہ برائی جواجتہادکے بغیر معلوم ہوائمہ معتبرین کے نزدیک اس میں اختلاف کامحل نہیں پس کوئی شافعی اس حنفی کو منع نہیں کرتاجوایسی نبیذپئے جس سے نشہ نہیں ہوتااورکوئی حنفی کسی شافعی کونہیں روکتاجوگوہ اوربِجو کھاتاہے۔

    اور آخری رکن محتسب علیہ ہے اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ انسان ہوکیونکہ بچے کوبھی شراب پینے سے روکاجائے گا، ہاں! بعض افعال مجنون اوربچے کے حق میں منکر نہیں ہوتے (جیسے نمازوغیرہ)اورنہ ہی ان کو ا س سے روکاجائے گا ۔
مُحتَسِب کے آداب کابیان:
    محتسب کوچاہے کہ وہ عالم ،متقی،حسن اخلاق کا پیکر،نرم طبیعت کامالک ہوناچاہئے اوروہ سختی سے پیش آنے والانہ ہو۔ جہاں تک علم کاتعلق ہے تومحتسب کو احتساب کی حدودکاعلم ہوناچاہئے۔ پرہیزگاری یہ ہے کہ وہ احتساب میں اس حدتک رہے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے ۔حسن اخلاق کے ساتھ نرمی اختیارکرے ،سختی نہ کرے تاکہ وہ حدِشرع سے تجاوزنہ کرجائے پس اس کافساداس کی اصلاح پرحاوی نہ ہو اوراحتساب کے معاملے میں شفقت کو مد نظر رکھے یہاں تک کہ جب اُسے کوئی شخص کسی چیزسے منع کرے یااُسے ناپسندیدہ چیزکاسامناہوتوشریعت کی حدسے تجاوزنہ کرے کہ اگر وہ احتساب کو بھول جائے اور نفسِ احتساب کے معاملے میں برائی کامرتکب ہو۔
عبادات میں مروّجہ منکرات :
    برائی کا مرتکب اس شخص کی طرح ہے جو حالتِ نمازمیں قبلہ سے منہ پھیرلے یااطمئنان سے رکوع وسجود نہ کرے یا قراء ت
Flag Counter