Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
173 - 415
باب19:        نیکی کاحکم دینا اوربرائی سے منع کرنا
    جان لیجئے !نیکی کاحکم دینااوربرائی سے روکنا دین کے اصولوں میں سے ہے کیونکہ اس سے انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کامقصدحاصل ہوتا ہے اور اس پراللہ عَزَّوَجَلَّ کایہ فرمان دلالت کرتاہے:
وَلْتَکُنۡ مِّنۡکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوۡنَ اِلَی الْخَیۡرِ وَیَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اورتم میں ایک گروہ ایساہوناچاہے کہ بھلائی کی طرف بلائيں اوراچھی بات کاحکم ديں اوربُری سے منع کریں۔(پ4 ،اٰل عمران:104)

    حدیثِ شریف میں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں ارشادفرمایا: ''اے لوگو!تم یہ آیت پڑھتے ہو:
'' یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والو!تم اپنی فکررکھوتمہاراکچھ نہ بگاڑے گاجوگمراہ ہواجب کہ تم راہ پرہو۔ (پ7، المآئدۃ: 105)''اوراس کامفہوم غلط انداز سے بیان کرتے ہوجبکہ میں نے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کویہ ارشاد فرماتے سنا:''جو کوئی قوم گناہ کا کام کرے اور ان میں روکنے کے قابل کوئی شخص ہولیکن وہ نہ روکے توقریب ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان سب کواپنے عذاب میں مبتلاکردے۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الملاحم ،باب الأمروالنھی ،الحدیث۴۳۳۸،ص۱۵۳۹، بتغیرٍ)
    حضرت سیِّدُنا ابوثعلبہ خُشَنِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے اس آیت:
'' لَایَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اہْتَدَیْتُمْؕ
ترجمۂ کنزالایمان:تمہاراکچھ نہ بگاڑے گاجوگمراہ ہوا جب کہ تم راہ پرہو۔ (پ۷،المآئدۃ:۱۰۵)'' کی تفسیرپوچھی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''اے ابو ثعلبہ!نیکی کاحکم دواوربرائی سے منع کرواگر تم دیکھو کہ بخل کی اطاعت اور خواہشِ نفس کی اتباع کی جاتی ہے،دنیاکوترجیح دی جاتی ہے اورہرذی رائے اپنی رائے پر اِتراتاہے ،توتم اپنی فکر کرو اورعوام کوچھوڑدوبے شک تمہارے بعداندھیری رات کے ٹکڑے کی طرح فتنے ہیں اس وقت جودین اختیارکریگاجس طرح تم نے اختیارکیاہے تواسے تم میں سے پچاس(کے ثواب کے برابر)ثواب ملے گا۔
 (سنن ابی داؤد ،کتاب الملاحم ،باب الأمروالنھی ،الحدیث۴۳۴۱،ص۱۵۳۹،بتغیرٍ)
    جانناچاہے !امربالمعروف کے چارارکان ہیں:(۱)مُحتَسِب(یعنی احتساب کرنے والا)(۲)مُحتَسَب علیہ (جس کااحتساب کیاجائے)(۳)مُحتَسَب فیہ(جس میں احتساب ہو)(۴)نفسِ اِحتساب۔

    (۱)مُحتَسِب:اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو،مکلف ہو۔پس رعایامیں سے ہر ایک اس میں داخل ہے اس میں ولایت اوراجازت کاہوناشرط نہیں۔
Flag Counter