| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
ان لوگوں کاسماع جواہلِ دل ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت اوراس کی ملاقات کے اشتیاق میں مشہورہیں وہ جس چیزکوبھی دیکھتے ہیں اس میں اس ذات پاک کا دیدارکرتے ہیں جب بھی کوئی چیزان کے کانوں کوکھٹکھٹاتی ہے تووہ اسے اسی ذات سے یااس کے حوالے سے سمجھتے ہیں توان لوگوں کاسماع ان کے عشق اورمحبت کومزید پختہ کرتااورشوق کوابھارتاہے اوردل کے لئے چقماق(یعنی آگ جلانے والے پتھر)کاکام دیتاہے اورایسے مکاشفات اورلطائف کونکالتاہے جوبیان سے باہرہیں ان کووہی پہچانتا ہے جوان کو چکھتاہے اورجس کی حِس چکھنے سے عاری ہوتی ہے وہ ان کاانکارکرتاہے صوفیاء کی زبان میں اسے وجدکہاجاتاہے اورجوچیزبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت اوراس کی ملاقات کے شوق کوبڑھاتی ہے اگرچہ وہ فرائض میں سے نہ بھی ہوپھر بھی کم ازکم مباحات میں سے (ضرور)ہوگی اوریہ کیسے ناجائزہوسکتاہے حالانکہ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی دعامیں بھی اسی طرف اشارہ ہے، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دعامانگی:
''اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ اَحَبَّکَ وَحُبَّ مَایُقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ
ترجمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!مجھے اپنی محبت،اپنے مُحبیّن کی محبت اوران لوگوں کی محبت عطافرماجومجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔''
(المعجم الکبیر ،الحدیث۲۱۶،ج۲۰،ص۱۰۹،''اللہم ارزقنی''بدلہ''اللہم انی أسألک''')
پس اب جان لیجئے ! سماع باطن کوحرکت دیتاہے لیکن جولوگ بھلائی میں قوی اورکامل ہوتے ہیں انہیں خارج سے کسی حرکت دینے والے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
جانناچاہے !سماع کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اسے پوری توجہ سے سنا جائے، اور جہاں تک ممکن ہوبلند آواز سے نہ روئے نہ حرکت کرے خصوصاًنوجوانوں کومشائخ کے سامنے اورمبتدی(جوابھی ابتدا میں ہے) کومنتہی(تکمیل کرلینے والے) کے سامنے ایسانہیں کرناچاہئے اورضروری ہے کہ وہ سماع کے دوران اپنے دل اورنفس کے احوال کی نگرانی میں مشغول رہے یہاں تک کہ اپنے نفس کوحرکات اوروجدکے اظہارسے روکے اوربعض علماء وجدکے تحقق کے لئے بناوٹی وجدکرنے کے بھی قائل ہیں تاکہ اس کے باطن میں چھپی ہوئی چیز ابھرآئے جس طرح آگ پتھرمیں چھپی ہوتی ہے (جب ایک پتھرکودوسرے پر مارتے ہیں توآگ نکل آتی ہے) اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر جانتا ہے۔
اس بات کوسمجھ لو فائدہ ہوگا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔