| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
میں موجود چیز کو حرکت دیناہے پس نوحہ کی آوازمکروہ ہے کیونکہ یہ مذموم چیزکو حرکت دیتا ہے اوروہ فوت ہونے والے پرغم کا اظہار کرنا ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کافرمان عالیشان ہے:
لِّکَیۡلَا تَاۡسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان:اس لئے کہ غم نہ کھاؤاس پرجوہاتھ سے جائے۔(پ27 ، الحدید:23)
شادی اور ولیمہ ،عقیقہ وغیرہ خوشی کے مواقع پر سماع مکروہ نہیں کیونکہ اس کے ذریعے مباح یامستحب خوشی میں اضافہ ہوتا ہے، اس بات پریہ روایت دلالت کرتی ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مکہ سے (مدینہ طیبہ)تشریف لائے توعورتوں نے دف بجاکرخوش آوازی سے یہ کلام پڑھا:طَلَعَ الْبَدْرُعَلَیْنَامِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّکْرُعَلَیْنَامَا دَعَا لِلّٰہِ دَاعٍ
ترجمہ:ثنیات الوداع(یعنی وہ پہاڑیاں جہاں سے مہمانوں کو الوداع کیا جاتا تھا)سے ہم پرچودھویں کاچاندطلوع ہوا اورجب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پکارنے والا پکارے ہم پرشکرادا کرنا لازم ہے۔
اس پرصحیح بخاری اورصحیح مسلم کی روایت بھی دلالت کرتی ہے ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ (کم سنی میں)مَیں نے اللہ کے رسول عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کودیکھا کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مجھے اپنی چادر مبارک میں چھپائے ہوئے تھے اورمیں ان حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جومسجدمیں کھیل (یعنی جنگی مشقیں کر)رہے تھے یہاں تک کہ میں خودہی تھک گئی ۔''
صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے ،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں : ''امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے پاس تشریف لائے اورمنیٰ کے ایام میں میرے پاس دو (نابالغ) بچیاں تھیں جودف بجاتی اورناچتی تھیں اورنبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے آپ کو چادرسے ڈھانپ رکھا تھا۔ حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں جھڑک دیاتونبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے چہرے مبارک سے چادرہٹاکر فرمایا:''دَعْہُمَا یَا اَبَا بَکْرٍفَاِنَّھَا اَیَّامُ عِیْدٍ
ترجمہ:اے ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ! انہیں چھوڑدو، یہ عیدکے دن ہیں۔''
(صحیح مسلم ،کتاب صلاۃ العیدین ،باب الرخصۃ فی اللعب ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۲۰۶۳،ص۸۱۷)
اسی طرح ایک اورحدیث میں ہے: وہ دونوں(نابالغ)بچیاں گاتی ناچتی تھیں۔یہ تمام امورسماع کے جوازپرقطعی طور پر دلالت کرتے ہیں اورعورتوں کی آواز(کے سننے)کے مباح ہونے پردلالت کرتے ہیں جبکہ (سننے سے)فتنے کااندیشہ نہ ہو۔
پس سماع دل کے جذبات کواُبھارتاہے اگراس کے دل میں جائزعشق ہوتو اس کاابھارناجائزہے اوراگرعشق حرام ہوتوابھارناناجائزہے اوریہ سماع اہلِ غفلت کا ہوتاہے۔