روح میں ایک عجیب تاثیرپیداکردیتی ہیں کبھی تونغمات غمگین کردیتے ہیں،کبھی خوش کرتے اورکبھی رلادیتے ہیں اورکبھی سن کرہنسی آتی ہے ،اوربعض نغمات اعضاء میں عجیب و غریب حرکات پیداکردیتے ہیں۔یہ گمان نہیں کرنا چاہے کہ یہ معنی اورمفہوم کے سمجھنے کی وجہ سے ہوتا ہے بلکہ حیوانات میں اس کی تاثیردیکھی گئی ہے خصوصاً اونٹ میں۔ اوربچے کے بارے میں دیکھاگیاہے کہ نہ تووہ بات کرسکتاہے نہ سمجھ سکتا ہے (مگرلوری سُن کر چپ ہوجاتاہے حالانکہ وہ اسے سمجھتانہیں)اورجن سازوں کی آوازیں سمجھ نہیں آتیں ان کی تاثیرکا مشاہدہ ہے خصوصاًاونٹ ،کہ جب کبھی ان پربیابان لمبے ہوجاتے ہیں اور بوجھ تلے دبے ہونے کی وجہ سے تھک جاتے ہیں توحُدِی خواں کے اشعارسن کرگردن لمبی کرلیتے ہيں اورسفرطے کرلیتے ہيں۔
حضرت سیِّدُنا ابوبکرمحمدبن داؤددِینوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جورَقّی کے نام سے معروف ہیں فرماتے ہیں کہ میں جنگل میں تھا، مجھے اہل عرب کاایک قبیلہ ملا،ان میں سے ایک شخص نے میری دعوت کی، مجھے ایک خیمے میں لے گیا۔میں نے وہاں ایک سیاہ غلام کو بیڑیوں میں جکڑا ہوادیکھا،گھرکے سامنے چنداونٹ مرے پڑے تھے۔میں نے ایک اونٹ کودیکھاجونہایت کمزوراور مرنے کے قریب تھا۔مجھ سے اس غلام نے کہا:آپ مہمان ہیں اورسفارش کرسکتے ہیں پس آپ میرے لئے سفارش کریں کیونکہ میراآقا مہمان کی عزت کرتاہے اوراس کی سفارش ردنہیں کرتا۔ہوسکتاہے وہ میرے پاؤں سے بیڑیاں کھول دے،جب کھانا سامنے آیاتومیں نے کھانے سے انکارکردیااورکہا:میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گاجب تک اس غلام کے بارے میں سفارش نہ کرلوں۔تو وہ کہنے لگا:اس غلام نے میراسارامال ہلاک کردیا۔میں نے پوچھا:اس نے کیاکیا؟ اس نے جواب دیا:یہ خوش آواز ہے، میں ان اونٹوں کے کرایہ پرگزراوقات کرتاتھا،اس نے ان پربہت بھاری بوجھ لادااورحُدِی خوانی کرتارہایہاں تک کہ اس کی خوش آوازی کی وجہ سے ایک رات میں تین راتوں کی مسافت طے ہوگئی، جب بوجھ اُتاراگیاتواس اونٹ کے علاوہ تمام اونٹ مرگئے لیکن چونکہ آپ میرے مہمان ہیں اس لئے میں آپ کی عزت کرتے ہوئے یہ غلام آپ کوہبہ کرتاہوں۔میں نے اس کی آوازسننی چاہی، صبح ہوئی تومیں نے اس غلام سے کہا:جواونٹ فلاں کنوئیں سے پانی نکالتاہے اس کے ساتھ حُدِی خوانی کرو۔ جب اس نے اپنی آوازبلندکی تواونٹ رسیاں توڑکرادھرادھربھاگنے لگااورمَیں بھی منہ کے بل گرپڑا،میراخیال ہے کہ میں نے اس سے زیادہ اچھی آوازنہیں سنی ۔
سماع کی تاثیرعجیب ہوتی ہے اورجسے سماع حرکت نہ دے وہ ناقص،راہِ اعتدال سے ہٹاہوااورروحانیت سے دور ہے ۔ پرندے حضرت سیِّدُناداؤدعلیہ السلام کی آوازسننے کے لئے ان کے سرکے اوپر(یعنی فضا)میں کھڑے ہوجاتے تھے۔
حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''سماع دل میں وہ چیزنہیں ڈالتاجواس میں نہ ہوبلکہ سماع کاکام دل