Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
169 - 415
نہیں ہونا چاہے پس جوآوازیں مختلف اجسام سے نکلتی ہیں مثلاًطبل،قضیب،دف،اوربانسری کی آوازیں،انہیں پرندوں کی آوازوں پر قیاس کرناچاہئے تو ان میں سے صرف اسے مستثنٰی کیا جائے گا جس کی حرمت پرنص واردہوئی ہو اوریہ اسی طرح ہے جیسے اوتار اورمزامیروغیرہ شراب پیتے وقت جن کو بجانے کی عادت تھی۔

    جب شراب پینے سے منع کیاگیاتواس کے چھڑانے میں مبالغہ کرتے ہوئے اس کے توابع سے بھی منع کردیاگیایہاں تک کہ ابتداء میں مٹکے(یعنی شراب کے برتن) توڑنے کی ضرورت پیش آئی۔ اورصحابہ کرام علیہم الرضوان سے اشعارکوخوش الحانی کے ساتھ پڑھنا ہمارے مؤقف کے جائزہونے پردلیل ہے یہاں تک کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق اورحضرت سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ جب یہ حضرات مدینہ پہنچے توحضرت سیِّدُنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار ہوگئے۔ جب آپ سے بخاراُتراتوآپ نے بلندآوازسے یہ اشعارپڑھے:
اَلَا لَیْتَ شَعْرِیْ ھَلْ اَبِیْتُنَّ لَیْلَۃً 		بِوَادٍ وَحَوْلِیْ اِذْخِرٌ وَجَلِیْلٌ

وَھَلْ اَرْدَنَّ یَوْمًا مِیَاہَ مِجَنَّۃٍ 		وَھَلْ تَبْدَوَنْ لِیْ شَامَۃٌ وَطَفْیَلُ
    ترجمہ:کاش! مجھے معلوم ہوتاکیامیں اس وادی میں ٹھہر سکوں گاجہاں میرے اردگرد اِذْخِرٌ اورجَلِیْلٌ (گھاس کانام)ہوں گی اورکیامیں کسی دن مِجَنّہ(جگہ کانام)کے چشمے پر اتروں گااورکیا شَامَۃٌ اورطَفْیَلُ(دو پہاڑوں کے نام)میرے سامنے آئیں گے۔
 (صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب مقدم النبی  واصحاب المدینۃ، الحدیث:۳۹۲۶،ص۳۲۰)
    امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجب بخارہوتاتوآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یوں کہتے:
کُلُّ اَمْرِیٍ مُصْبِحٌ فِیْ اَہْلِہٖ		وَالْمَوْتُ اَدْنٰی مِنْ شِرَاکِ نَعْلِہٖ
    ترجمہ: ہرشخص اپنے گھروالوں کے پاس صبح کرتاہے اورموت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہوتی ہے۔
(صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار، باب مقدم النبی  واصحاب المدینۃ، الحدیث:۳۹۲۶،ص۳۲۰)
    سرکاردوعالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں یوں عرض کی:
''اَللّٰہُمَّ اِنَّ الْعِیْشَ عِیْشُ الْاٰخِرَۃِ فَارْحَمِ الْاَنْصَارَ وَالْمُہَاجِرَۃَ
ترجمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!بے شک زندگی توآخرت کی زندگی ہے پس توانصاراورمہاجرین پررحم فرما۔''
(صحیح البخاری، کتاب الجہاد، باب التحریض علی القتال، الحدیث:۲۸۳۴،ص۲۲۸)
سماع کے آثار:
    سماع اس اعتبارسے کہ یہ دل کوحرکت دینے والاہے اورجو چیزاس پرغالب ہوتی ہے اس کوابھارتاہے۔ پس ہم کہتے ہیں کہ اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کاایک راز ہے کہ اس نے بَاوزن آوازوں کی روح کے ساتھ ایک مناسبت رکھی ہے یہاں تک کہ یہ
Flag Counter