Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
168 - 415
اس بات کوسمجھ لو فائدہ ہوگا۔
باب18:            سماع اوروجد کا بیان ۱؎
    جان لو!سماع کے بارے میں علماء کااِختلاف ہے۔ بعض علماء اسے حرام قرارديتے ہیں اوربعض مباح قراردیتے ہیں ، ہم سماع کی حقیقت اوراس کے جوازکے دلائل بیان کریں گے پس ہم کہتے ہیں سماع سے مراداچھی اورموزونی آوازسنناہے جس کا معنی سمجھا جاسکے اوروہ دل کوحرکت دے ۔اس کامقصدصرف کانوں اور دل کا لذت حاصل کرناہے جس طرح سبزہ کودیکھنے سے آنکھوں کولذت ملتی ہے اور دل کوبھی لذت حاصل ہوتی ہے۔اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
یَزِیۡدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:بڑھاتاہے آفرینش(پیدائش) میں جو چاہے۔( پ 22،فاطر:1)

     مفسرین نے اس سے مراداچھی آوازلی ہے۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت سیِّدُناابوموسیٰ اَشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا:
''لَقَدْ اُوْتِیَ مِزْمَارًامِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاؤدَ
ترجمہ:انہیں حضرت سیِّدُناداو،دعلیہ السلام کے نغمات میں سے ایک نغمہ دیاگیا۔''
(صحیح البخار ی ،کتاب فضائل القرآن ،باب حسن الصوت بالقراء ۃ للقرآن ،الحدیث۵۰۴۸،ص۴۳۷)
    اورحدیث مبارک میں ارشاد ہے:
''مَابَعَثَ اللہُ نَبِیًّااِلَّاوَہُوَحُسْنُ الصَّوْتِ
ترجمہ:اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو نبی بھیجاوہ خوش آواز تھا۔''
  (الشمائل المحمدیۃ  للترمذی ،باب ماجاء فی قراء ۃ رسول اﷲ   ،الحدیث۳۰۳،ص۱۸۳)
    یہ بات کہنامحال ہے کہ اچھی آواز سے پڑھنا صرف تلاوت قرآن کے لئے جائزہے کیونکہ بلبل کی آوازسنناجائزہے پس جب اچھی آوازکاسننامباح ہے تواس کا موزونی آواز کاسننابھی حرام نہ ہوگااوروہ کیسے حرام ہوسکتی ہے جبکہ بلبل کی آوازکا بھی ایک وزن ہوتاہے جس کی ابتداء اور انتہاء متناسب ہوتی ہے تو اس اچھی آوازکاآدمی یاپرندے وغیرہ کے حلق سے نکلنے کا حکم مختلف
۱؎: صدرالشریعہ، بدرالطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی اپنی شہرہ آفاق کتاب بہار شریعت،حصہ ۱۶ص۱۵۴ پر نقل فرماتے ہیں:''متصوفہ زمانہ کہ مزامیرکے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور کبھی اچھلتے کودتے ہیں اور ناچنے لگتے ہیں، اس قسم کا گانا بجانا ناجائز ہے، ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے۔ مشائخ سے اس قسم کے گانے کا کوئی ثبوت نہیں۔ جو چیز مشائخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھ دیا جو ان کے حال وکیف کے موافق ہے تو ان پر کیف ورقت طاری ہو گئی اور بے خود ہو کر کھڑے ہو گئے اور اس حالِ وارفتگی میں ان سے حرکاتِ غیر اختیاریہ صادر ہوئے ،اس میں کوئی حرج نہیں۔

    مشائخ وبزرگانِ دین کے احوال اور ان متصوفہ کے حال وقال میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہيں ،جن میں فساق وفجار کا اجتماع ہوتا ہے، نااہلوں کامجمع ہوتا ہے، گانے والوں میں اکثر بے شرع ہوتے ہيں ،تالیاں بجاتے اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے، کودتے، تھرکتے ہيں، اس کا نام حال رکھتے ہيں۔ ان حرکات کو صوفیۂ کرام(رحمہم اللہ تعالیٰ) کے احوال سے کیا نسبت، یہاں سب اختیاری ہیں وہاں بے اختیاری تھیں۔''    (بحوالہ الفتاوی الھندیۃ کتاب الکراہیۃ، الباب السابع عشر فی الغناء ،ج۵، ص۳۵۲)
Flag Counter