Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
166 - 415
باب17:             سفرکے آدا ب
    جان لیجئے !سفرکی دو اقسام ہیں: (۱) سفرظاہر(۲)سفر باطن۔

    (۱)سفر ظاہر: اس سے مراد زمین کے اَطراف واَکناف کی طرف جاناہے ۔

    (۲)سفرباطن:اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف جاناہے اور اس پرحضرت سیِّدُناابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کافرمان دلالت کرتا ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکایت کرتے ہوئے قرآن مجید میں ذکر فرمایا:
وَقَالَ اِنِّیۡ ذَاہِبٌ اِلٰی رَبِّیۡ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿99﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اورکہامیں اپنے رب کی طرف جانے والاہوں اب وہ مجھے راہ دے گا۔(پ23 ،الصّٰفٰت: 99)

    دونوں سفروں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے:
سَنُرِیۡہِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمْ
ترجمۂ کنزالایمان:ابھی ہم انہیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں اور خود ان کے آپے میں۔ (پ25،حٰمۤ السجدۃ:53)

    سب سے بڑاسفراللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف باطنی سفرہے اوریہ مسافرہمیشہ ایسی جنت سے لطف اندوزہوتاہے جس کی چوڑائی تمام آسمانوں اورزمینوں کے برابرہے اورایسی منازل سے بہرہ ور ہوتاہے جس کی گھاٹیاں اورچشمے مسافروں کی کثرت سے تنگ نہیں ہوتے بلکہ دوگنے ہوجاتے ہیں اورجوشخص اس سفرسے محروم ہووہ تمام بھلائی سے محروم ہوتاہے اوروہ ایسی پستی میں رہتاہے جس سے کبھی بھی بلندنہیں ہوگا اوراحادیث وآثارمیں واردوہ تمام آداب وسنن اسی سفر(یعنی سفرِآخرت )کے متعلق ہیں۔جبکہ ظاہری سفرجوکہ چلنے اورمنازل طے کرنے پر مشتمل ہوتاہے ،ہم اس کے فوائدوآداب چندفصول میں بیان کرتے ہیں۔
سفر کرنے میں کیا نیت ہو؟
    سب سے پہلے بندہ سفرکے ارادے کے لئے اپنی نیت درست کرے، یہ سفر حج کے لئے ہویاکسی عالِم یاولی کی زیارت کے لئے ہو،خواہ وہ زندہ ہویاوفات پاگیاہو ،یاسرحدوں پرٹھہرنے اوران کی حفاظت کے لئے سفر کرے یادین ودنیامیں خلل ڈالنے والی کسی غرض کے لئے ہویاحلال روزی کمانے کے لئے تجارت کرنے کا مقصد ہو یہاں تک کہ اس کی کوئی حرکت صرف دنیاکے لئے نہ ہوورنہ یہ چیزاس کے سفرکی تھکاوٹ اورمحنت کوضائع کردے گی۔

    جان لو !بے شک نفس احوال کے مختلف ہونے کی وجہ سے اپنے رذائل اور خبائث ظاہرکرتاہے اوریہ چیزسفرمیں بہت زیادہ پائی جاتی ہے اورہم نے کچھ آدابِ سفر کتابُ الحج میں بیان کردئیے ہیں۔
Flag Counter