Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
165 - 415
    حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفار ارشادفرماتے ہیں:'' جوشخص مخلوق سے گفتگوکے سبب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ہم کلامی سے مانوس نہیں ہوتاوہ کم عمل اوردل کااندھاہے اوراس نے اپنی عمرضائع کردی۔

    دوسرافائدہ:گوشہ نشینی کی وجہ سے انسان ان گناہوں سے محفوظ رہتاہے جوعموماًمیل جول کی وجہ سے سرزدہوتے ہیں مثلاً غیبت اورریاکاری میں مبتلاہونا،نیکی کا حکم نہ دینا اورنہ ہی برائی سے منع کرنا اور ان سب کا ذکراپنے مقام پرآئے گا۔

    حاصل کلام یہ ہے کہ مطلق طورپریہ حکم لگاناناممکن ہے کہ گوشہ نشینی اورمیل جول میں سے ایک بہترہے کیونکہ یہ لوگوں کے مراتب کے اعتبارسے مختلف ہوتاہے اوران میں حالتِ اعتدال ہی بہترہے کہ انسان اس قدرتنہا نہ ہو جائے کہ میل جول سے حاصل ہونے والے فوائدکھودے اورنہ ہی لوگوں سے اس قدر بے تکلف ہوجائے کہ تنہائی کے فوائدضائع کردے اورگوشہ نشینی سے مرادیہ ہے کہ وہ اپنے شرسے لوگوں کودوررکھے اورمکمل طورپراپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے ذکرکی طرف متوجہ ہواورلمبی امیدیں نہ باندھے پس لمبی امیدیں نہ باندھنے کی وجہ سے اس کانفس پرامن رہے گااورتنہائی کے ذریعے جہاداکبرکی نیت کرے اوراس سے مراد نفس سے جہاد کرناہے جیساکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ارشادفرمایا:
''رَجَعْنَا مِنَ الْجِھَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِھَادِ الْاَکْبَرِ
ترجمہ:ہم جہاداصغرسے جہاداکبرکی طرف لوٹ رہے ہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔ اس بات کوسمجھ لو فائدہ ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ وَاِلَیْہِ الْمَرْجَعُ وَالْمَآبُ
Flag Counter