طبیعت میں برے اخلاق کاآنا وغیرہ وغیرہ اوراسی طرح آدمی صنعت وحرفت کے معاملے میں دنیاوی مصالح کے لئے فارغ ہو جاتا ہے۔
پہلافائدہ :انسان عبادت،غوروفکر،اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت،اس کی بارگاہ میں مناجات اورکائنات کے سربستہ رازوں سے آگاہ ہونے کے لئے فارغ ہوجاتاہے اوریہ چیزگوشہ نشینی اورمخلوق سے جدائی اختیارکرنے سے ہی حاصل ہوتی ہیں، اسی بناپربعض حکماء کاقول ہے کہ گوشہ نشینی پروہی شخص قادرہوسکتاہے جواللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب سے اُنس رکھتاہے اورجولوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتاب کومضبوطی سے پکڑتے ہیں وہی ذکرخداوندی کی وجہ سے دنیامیں آرام پاتے ہیں اورذکرالہٰی عَزَّوَجَلَّ کرنے والے ذکرکے ساتھ زندہ رہتے ہیں اوراسی کے ذکر پرفوت ہوتے ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے ڈرتے ہیں اوراس بات میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں سے میل جول ان کے لئے ذکراورفکرمیں رکاوٹ بنتاہے، اسی لئے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ابتداء ًغارِحرامیں سب سے الگ ہوکرگوشہ نشینی فرماتے تھے۔
جب آدمی خلوت پرمداومت اختیارکرلیتاہے توحضرت سیِّدُنا جنیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کے مطابق اس کے معاملہ کی انتہاء اس مقام پرہوتی ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' میں تیس سال سے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ہم کلام ہوں اورلوگ سمجھتے ہیں کہ میں ان سے گفتگوکررہا ہوں۔''
کسی (گوشہ نشین)سے کہاگیا:''تجھے تنہارہنے پرکس چیزنے ابھارا؟''اس نے جواب دیا:''میں تنہانہیں ہوں بلکہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کاہم نشین ہوں جب میں چاہتاہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے ہم کلام ہوتومیں اس کی کتاب کوپڑھتاہوں اورجب میں اس سے ہم کلام ہوناچاہتاہوں تونمازپڑھتاہوں۔''
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا اویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس حضرت سیِّدُنا ہَرِم بن حیان حاضر ہوئے آپ نے ان سے پوچھا:''کیسے آناہوا؟''انہوں نے جواب دیا:''میں آپ سے اُنس حاصل کرنے آیاہوں۔''حضرت سیِّدُنااویس قرنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''میں کسی ایسے آدمی کونہیں جانتاجواپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی معرفت بھی رکھتاہواورپھرکسی دوسرے سے اُنس حاصل کرے۔''
حضرت سیِّدُنا فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' جب میں رات ہوتے دیکھتاہوں توخوش ہوتاہوں اورکہتاہوں کہ اب میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں خلوت اختیارکروں گااورجب دن نکلتے دیکھتاہوں تولوگوں سے ملاقات کو ناپسند جاننے کی وجہ سے وحشت محسوس کرتاہوں کہ اب وہ چیز آرہی ہے جومجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ کی یادسے غافل کردے گی۔''