| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
جان لیجئے !گوشہ نشینی اختیارکرنے کے بارے میں علماء کااختلاف ہے۔ بعض علماء نے گوشہ نشینی کوپسندکیاہے اوراسے میل جول سے افضل قراردیاہے ،ان علماء میں حضرت سیِّدُناسفیان ثوری،حضرت سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم، حضرت سیِّدُنا داؤد طائی ، حضرت سیِّدُنا فضیل بن عیاض،حضرت سیِّدُنا سلیمان خواص،اورحضرت سیِّدُنا بشرحافی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہم شامل ہیں،جب کہ اکثر تابعین نے میل جول کوپسندکیا ہے کیونکہ دوستوں کابکثرت ہونانیکی وتقوٰی کے کاموں میں معاون ہوتاہے اوران علماء نے اُخوّت اوراُلفت کے بارے میں وارد ہونے والے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے کہ جب نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص پیش کیاگیاجوپہاڑوں میں رہ کر عبادت کرنا چاہتاتھا توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''نہ تم ایساکرو اورنہ ہی تم میں سے کوئی دوسرا ایسا کرے کہ تمہارااسلام کے بعض مقامات پرصبرکرناچالیس سال تک (تنہا) عبادت کرنے سے افضل ہے۔''
(الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب ،باب حرف العین ،الرقم۲۰۵۲۔عسعس بن سلامۃ التمیمی ،ج۳،ص۳۰۹)
اور جنہوں نے گوشہ نشینی کوافضل قراردیاہے مثلاًحضرت سیِّدُنا فضیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ توانہوں نے نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عامرجُہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نجات کیا ہے ؟''توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:
لَیَسْعَکَ بَیْتُکَ،وَ اَمْسِکَ عَلَیْکَ لِسَانُکَ،وَاَبْکِ عَلٰی خَطِیْئَتِکَ۔
ترجمہ:تمہیں اپناگھرکافی ہو،اپنی زبان کوقابو میں رکھواوراپنی خطاؤں پرآنسوبہاؤ۔
(جامع الترمذی ،ابواب الزھد ،باب ماجاء فی حفظ اللسان ،الحدیث۲۴۰۶،ص۱۸۹۳بتغیرٍ)
گوشۂ نشینی کے فوائدونقصانات اوراس کی فضیلت کا وا ضح بیان
جان لیجئے !اس معاملہ میں اختلاف لوگوں کے مختلف ہونے کی بنیادپرہے۔
فوائد:گوشہ نشینی اختیارکرنے سے عبادت پرپابندی اورعلمی تربیت ہوتی ہے اورانسان کو میل جول کی وجہ سے سرزد ہونے والے گناہوں سے نجات ملتی ہے جیسے ریا،اورغیبت میں مبتلاہونا،نیکی کاحکم نہ دینا،اوربرائی سے منع نہ کرنا کو چھوڑنا ا ور