| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
قریبی رشتہ داروں کے حقوق کے بارے میں نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ارشادپاک ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ''میں رحمن ہوں اور اس رحم (یعنی رشتہ داری)کانام میں نے اپنے نام سے نکالاہے پس جس نے اسے جوڑا میں اسے جوڑوں گا اور جس نے اسے توڑامیں اسے توڑدوں گا۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الزکاۃ ،باب فی صلۃ الرحم ،الحدیث۱۶۹۴،ص۱۳۴۹،بتغیرٍ)
غلاموں کے حقوق:
نبئ کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی آخری وصیت میں ارشاد فرمایا:''اپنے غلاموں اورلونڈیوں کے سلسلے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈروانہیں وہی کھلاؤ جوخود کھاتے ہواوروہی لباس پہناؤجوخودپہنتے ہو،جس کام کی انہیں طاقت نہیں اس کی تکلیف نہ دوپس ان میں سے جوپسندہوں انہیں روک لواورجو پسندنہ ہوں انہیں بیچ دو،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق کوعذاب نہ دو،اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں ان کامالک بنایا ہے، اگروہ چاہتاتوانہیں تمہارامالک بنادیتا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الایمان ،باب المعاصی من امرالجاھلیۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۳۰،ص۴،مختصراً)