| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے:''کیامیں تمہیں روزہ ، نماز او ر صدقہ سے افضل چیزکے بارے میں نہ بتاؤں؟''صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:''جی ہاں۔''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''آپس میں صلح کروانا۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الادب ،باب فی اصلاح ذات البین ،الحدیث۴۹۱۹،ص۱۵۸۴)
اوروہ مسلمانوں کے عیبوں کوچھپائے ۔ان حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ تہمت کی جگہوں سے بچے اورہرحاجت مندمسلمان کے لئے اس شخص کے پاس سفارش کرے جواس کی عزت کرتاہے اورگفتگوکرنے سے پہلے سلام کرے،جہاں تک ممکن ہومسلمان بھائی کی عزت اورمال کودوسرے کے ظلم سے بچائے۔
ان حقوق میں یہ بھی ہے کہ جب کسی شریرسے واسطہ پڑے تواسے برداشت کرے اوراس سے بچے اور ان حقوق میں یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی قبروں کی زیارت کرے اوران کے مُردوں کے لئے دعامانگے۔
جہاں تک پڑوسی کے حقوق کاتعلق ہے توجان لو!پڑوسی کے حقوق عام مسلمانوں کے حقوق سے بھی زیادہ ہے ۔
نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ خوشبودارہے:''پڑوسی تین قسم کے ہیں: ایک وہ پڑوسی جس کاایک ہی حق ہے دوسراوہ ہے جس کے دوحق ہیں اورتیسراوہ جس کے تین حقوق ہیں اوروہ جس کے تین حقوق ہیں، وہ مسلمان اورقریبی رشتہ دارہے اور جس کے دوحق ہیں وہ مسلمان ہے اور جس کاایک حق ہے وہ مشرک ہے ۔ ''(حلیۃ الاولیاء ،عطا ء بن میسرۃ ،الحدیث۶۹۴۸،ج۵،ص۲۳۵)
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا پڑوسی ہونے کی وجہ سے مشرک کے حق کوثابت کرناپڑوسی کے حق کی تاکیدپردلالت کرتا ہے۔
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ذی وقارہے:مَازَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِیْ بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہ، سَیُوَرِّثُہ،۔
،ترجمہ:حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے ہمیشہ پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ وہ اسے وارث بناکرچھوڑیں گے۔
(صحیح البخاری ،کتاب الادب ،باب الوصاء ۃ بالجار ،الحدیث۶۰۱۴،ص۵۰۹)
سیِّدُ المُبلِّغِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ کرامت نشان ہے:
مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِفَلْیُکْرِمْ جَارَہ،۔
ترجمہ:جوشخص اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت کے دن پرایمان رکھتاہے اُسے اپنے پڑوسی کی عزت کرنی چاہے۔
(صحیح البخاری ،کتاب الادب ،باب من کان یؤمن باﷲ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۶۰۱۹،ص۵۰۹)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہ السلام سے ارشادفرمایا:''اے موسی علیہ السلام!جوشخص اپنے والدین سے اچھاسلوک کرے اگرچہ میرا نافرمان ہو میں اسے نیکوکارلکھ دیتاہوں اور جووالدین کی نافرمانی کرے اگرچہ میرا فرمانبردارہو میں اسے نافرمان لکھ دیتاہوں۔''