نبئ رحمت،شفیعِ اُمّت،قاسمِ نعمت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:
اَلْمُؤْمِنُ مَنْ اَمِنَہُ الْمُؤْمِنُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ۔
ترجمہ:(کامل) مؤمن وہ ہے جس سے اہل ایمان اپنے نفسوں اورمالوں کومحفوظ ومامون سمجھیں۔
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبد اﷲ بن عمرو بن العاص ،الحدیث۶۹۴۲،ج۲،ص۶۵۴)
نبئ کریم ،رء وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ والاشان ہے:
اَلْمُہَاجِرُمَنْ ہَجَرَالسُّوْءَ وَاجْتَنَبَہ،۔
ترجمہ:مہاجر وہ ہے جوبرائی چھوڑدے اوراس سے اجتناب کرے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبد اﷲ بن عمرو بن العاص ،الحدیث۶۹۴۲،ج۲،ص۶۵۴)
مسلمان کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ ہرمسلمان کے لئے تواضع کرے کسی پرتکبرنہ کرے، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی اَکڑنے والے متکبّرکوپسندنہیں فرماتااوراگرکوئی دوسرا اس پرتکبر سے پیش آئے تو برداشت کرے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
خُذِ الْعَفْوَ وَاۡمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیۡنَ ﴿199﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے محبوب! معاف کرنااختیارکرواوربھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو۔ (پ9،الاعراف:199)
ان حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نہ اپنے بارے میں لوگوں کی شکایات سنے ،نہ کسی دوسرے کے بارے میں اورنہ خودایساکرے۔
سرکارِ مد ینہ ، راحتِ قلب وسینہ ،سلطانِ باقرینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:
''لاَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَاتٌ
ترجمہ: چغل خورجنت میں داخل نہیں ہو گا۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الادب ،باب مایکرہ من النمیمۃ ،الحدیث۶۰۵۶، ص۵۱۲)
ان حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس آدمی کو پہچانتا ہواس سے تین دن سے زیادہ ترکِ تعلق نہ کرے اورکسی کے پاس اس کی اجازت کے بغیرنہ جائے اورتمام لوگوں سے حسن اخلاق سے پیش آئے اورمشائخ کی عزت کرے،بچوں پررحم کرے ، تمام لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملے اورکسی مسلمان سے ایساوعدہ نہ کرے جسے پورانہ کرسکے۔
ان حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر کوئی صورت بنتی ہو تو مسلمانوں کے درمیان صلح کرائے۔