| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
(۵)وفااورخلوص:یعنی اپنے بھائی سے اخلاص اور وفا کے ساتھ پیش آنا اوراس سے مرادیہ ہے کہ اس کی محبت پر ثابت قدم رہے اوراس کے مرنے تک اس پرمداومت اختیارکرے اوراس کی وفات کے بعداس کی اولاداوردوستوں سے دوستی رکھے ۔
حدیث ِپاک میں ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں ایک بوڑھی عورت حاضر ہو ئی توآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس کی تکریم کی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے اس بارے میں پوچھاگیاتوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا:''اِنَّھَا کَانَتْ تَأْتِیْنَا اَیَّامَ خَدِیْجَۃَ
ترجمہ:یہ عورت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی زندگی میں ہمارے پاس آیاکرتی تھی۔''
(المستدرک ،کتاب الایمان ،باب حسن العھد من الایمان ،الحدیث۴۱،ج۱،ص۱۶۵)
جانناچاہے !حُسنِ عہدایمان سے ہے اورکرمِ عہددین سے ہے اورتجھے ہمیشہ اپنے بھائیوں کوفضیلت دینی چاہئے نہ کہ اپنے آپ کو۔اسی کے بارے میں کسی نے کہاہے:
تَذَلَّل لِمَنْ اِنْ تَذَلَّلْتَ لَہٗ یَرٰی ذَاکَ لِلْفَضْلِ لَا لِلْبَلَہِ وَجَانِبْ صَدَاقَۃً مَنْ لَا یَزَالُ عَلَی الْا َصْدِقَاءِ یَرٰی الْفَضْلَ لَہٗ
ترجمہ:ایسے شخص کے سامنے تواضع اختیارکروجواس تواضع کوتمہاری فضیلت کاباعث سمجھے تمہیں احمق نہ جانے اورجوشخص اپنے آپ کو سب دوستوں سے افضل سمجھے اس کی دوستی سے پرہیزکرو۔
مسلمان ،رشتے داراورپڑوسی کے حقوق:
مسلمان کاحق یہ ہے کہ جب ایک مسلمان دوسرے سے ملاقات کرے تواسے سلام کرے ،جب وہ بلائے تواس کوجواب دے،اس کے چھینکنے پر''یَرْحَمُکَ اللہُ''کہے،بیمارہوتوعیادت کرے،فوت ہوجائے توجنازہ میں شریک ہو،جب کوئی قسم اٹھائے تواس کی قسم کوپورا کرے،جب وہ خیرخواہی چاہے تواس کی خیرخواہی کرے،غائب ہوتوغیرموجودگی میں اس کی حفاظت کرے،اس کے لئے بھی وہی چیزپسندکرے جواپنے لئے پسندکرتاہے، اوراس کے لئے بھی وہی ناپسندجانے جسے اپنے لئے ناپسندسمجھتاہے۔''
حسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ اُلفت نشان ہے: ''تم پر مسلمانوں کے چار حقوق لازم ہیں: نیکی کرنے والے کی مددکرو،ان کے گناہ گاروں کے لئے بخشش مانگو،پیٹھ پھیرنے والے کے لئے دعامانگو،اورتوبہ کرنے والے سے محبت کرو۔''(فردوس الاخبار للدیلمی ،باب الالف ،الحدیث۱۵۰۲،ج۱،ص۲۱۵)
اورمسلمان کے حق میں سے یہ بھی ہے کہ تو کسی مسلمان کواپنے قول اورفعل سے تکلیف نہ پہنچائے۔''