| لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ) |
لقمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایا:''اے بیٹے!علماء کے ساتھ بیٹھ اوران کے گھٹنوں کے ساتھ اپنے گھٹنے ملاکیونکہ دل حکمت کی باتوں سے اس طرح زندہ ہوتے ہیں جس طرح مردہ زمین موسلادھاربارش سے زندہ ہوتی ہے۔''
اُخوّت اورمحبت کے حقوق:
جانناچاہے !اُخوت دوآدمیوں کے درمیان رابطہ ہوتاہے جس طرح میاں بیوی کے درمیان عقدنکاح ہے۔ جب بھائی چارہ قائم ہوجائے تویہ تیرے مال،نفس،زبان اوردل پرکچھ حقوق لازم کرتاہے کہ تم اسے معاف کرو،اس کے لئے دعاکرو،اخلاص ووفاسے پیش آؤاورتکلیف وتکلّف کوچھوڑ دو۔
(۱)مال: یہ حق مال کے متعلق ہے اوراس میں سب سے کم مرتبہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے غلام کی طرح سمجھواوراس کی ضرورت پوری کرناتمہارامقصدہواور اس میں درمیانہ درجہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے جیساسمجھوکیونکہ اخوت شرکت اورمساوات کولازم کرتی ہے اور اس میں بلنددرجہ یہ ہے کہ تو اسے اپنے اوپرترجیح دے اس طرح کہ تواپنی حاجت چھوڑدے تاکہ اس کی حالت درست ہو جائے اوریہ بلندترین درجات میں سے ہے ،اس کے متعلق بہت سی احادیث مبارکہ واردہیں۔چنانچہ،
تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ محبت نشان ہے:''جب دوآدمی ایک دوسرے کے ساتھ (اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے)دوستی اختیارکرتے ہیں توان میں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو زیادہ پسندوہ ہوتاہے جواپنے ساتھی پرزیادہ نرمی کرنے والاہوتاہے۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتا ب البر والاحسان ،باب الصحبۃ والمجالسۃ ،الحدیث ۵۶۷،ج۱،ص۳۸۸،مفھوماً)
(۲)مدد کرنا:یعنی اپنے بھائی کی اس طرح مددکرناکہ ا س کے سوال کرنے سے پہلے ہی اس کی حاجات کوپورا کر دیا جائے اوراس کے بھی درجات ہیں جومال کے گذشتہ تینوں درجات کے برابرہیں۔
(۳) بری بات سے گریز کرنا: یہ حق اپنے بھائی کے سامنے بری بات سے گر یز کرنے کے بارے میں ہے۔ لہٰذا اس کے سامنے ایسی بات نہ کہے جواسے ناپسندہو۔حضرت سیِّدُنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:'' حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کسی کے منہ پر ایسی بات نہ کہتے جو اسے ناپسند ہو۔''(الشمائل المحمدیۃ للترمذی ،باب ماجاء فی خلق رسول اﷲ ،الحدیث۳۲۹، ص۱۹۷)
پس جان لو! اگر تم ہر عیب سے پاک شخص تلاش کرو گے تو اپنے لئے کوئی دوست نہ پاؤ گے۔ حضرت سیِّدُناامام شافعی علیہ رحمۃ اللہ الکافی ارشادفرماتے ہیں:''کوئی مسلمان ایسانہیں جواللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرتاہواوراس کی نافرمانی نہ کرتاہواورکوئی مسلمان