ترجمۂ کنزالایمان:اوراس کاکہانہ مانوجس کادل ہم نے اپنی یادسے غافل کردیااوروہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا۔( پ 15، الکھف:28)
ایک طبیعت دوسری طبیعت سے متاثرہوجاتی ہے جبکہ انسان کوعلم تک نہیں ہوتااوریہی حال بدعتی کاہے۔
اورحسن اخلاق کے بارے میں حضرت سیِّدُناعلقمہ بن عمر عطاردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے جامع بات ارشادفرمائی،آپ نے ارشادفرمایا:''اے بیٹے!اگرتمہیں لوگوں کی صحبت اختیارکرنی پڑے تو ایسے آدمی کی صحبت اختیارکرناکہ جب تواس کی خدمت کرے تووہ تیری حفاظت کرے اگرتواس کی صحبت اختیارکرے تووہ تجھے زینت بخشے اوراگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تووہ تجھے برداشت کرے۔ایسے شخص کی صحبت اختیارکرکہ جب توبھلائی کے ساتھ اپنا ہاتھ پھیلائے تووہ بھی اسے پھیلادے اوراگرتم میں کوئی اچھائی دیکھے تواسے شمارکرے اوراگربرائی دیکھے تواسے درست کرے۔ تو اس آدمی کی صحبت اختیارکرکہ جب تواس سے مانگے تووہ تجھے دے،اگرتوخاموش رہے توخودبخود دے اوراگرتجھ پرکوئی مصیبت نازل ہوتووہ غمخواری کرے۔اس شخص کی صحبت اختیارکرکہ جب تم بات کروتووہ تمہاری تصدیق کرے،اگرتم کسی کام کاارادہ کرو تو وہ تجھے اچھامشورہ دے اوراگرتم دونوں میں اختلاف ہوجائے تووہ تمہاری بات کوترجیح دے۔''
امیر المؤمنین، مولیٰ مشکل کشاحضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم اپنے اشعار میں فرماتے ہیں: ''تمہاراسچادوست وہ ہے جوتمہاراساتھ دے اورتمہیں نفع پہنچانے کے لئے اپنے آپ کونقصان پہنچائے اورجب تجھے گردش زمانہ پہنچے توتمہارے معاملات کودرست کرنے کے لئے خودپریشانی اٹھائے۔
اسلاف میں سے بعض ایسے بزرگ بھی ہیں جواپنے دوست کی موت کے بعدچالیس سال تک اس کے اہل وعیال کی خبرگیری کرتے رہے، ان کی حاجات کوپوراکرتے اور ہرروزان کے پاس جاکراپنے مال سے ان کی مددکرتے اوروہ بچے اپنے باپ کواس کی موت کے بعدبھی اپنی آنکھوں کے سامنے پاتے بلکہ وہ اس سے ایسی شفقت پاتے جو وہ اپنے باپ کی زندگی میں بھی باپ سے نہ پاتے تھے۔
لہٰذابہتریہی ہے کہ اس کادوست متقی ہونے کے ساتھ عالم بھی ہو،تاکہ وہ اس کے علم سے نفع اٹھائے ،حضرت سیِّدُنا