پس چندخصلتوں کا اعتبارضروری ہے کہ اس کادوست عاقل ہو،اچھے اخلاق کامالک ہو،فاسق وبدعتی اوردنیاکاحریص نہ ہو۔جہاں تک عقل کاتعلق ہے وہ اصل مال ہے، امیرالمؤمنین مولیٰ مشکل کشا حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم اپنے اشعار میں فرماتے ہیں:
فَلَا تَصْحَبْ اَخَا الْجَھْلَ وَاِیَّاکَ وَاِیَّاہُ
فَکَمْ مِنْ جَاھِلٍ اَرْدَی حَلِیْمًاحِیْنَ آخَاہُ
یُقَاسُ الْمَرْءُ بِالْمَرْءِ اِذَامَا الْمَرْءُ مَاشَاہُ
وَلِلشَّیْءِ مِنَ الشَّیْءِ مَقَایِیْسٌ وَاَشْبَاہُ
وَلِلْقَلْبِ عَلَی الْقَلْبِ دَلِیْلٌ حِیْنَ یَلْقَاہُ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔کسی جاہل کی صحبت اختیارنہ کروہ تجھ سے دور رہے تواس سے دوررہ۔
(۲)۔۔۔۔۔۔کتنے ہی جاہل ہیں جوعقل مندکے بھائی بن کراسے ہلاک کر دیتے ہیں۔
(۳) ۔۔۔۔۔۔انسان کودوسرے انسان سے قیاس کیاجاتاہے کیونکہ آدمی اپنی چاہت کے مطابق ہوتاہے۔
(۴) ۔۔۔۔۔۔اشیاء بعض دوسری اشیاء کے مشابہ ہوتی ہیں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔اوردل جب دوسرے دل سے ملتاہے تواس سے راہ پالیتاہے۔
اوریہ کیسے ہو سکتا ہے کہ احمق تجھے نفع د ے بلکہ وہ تو نقصان ہی پہنچاتاہے اسی لئے کسی نے کہاہے:
اِنِّیْ لَآمَنُ مِنْ عَدُوٍّ عَاقِلِ وَاَخَافُ خِلًا یَعْتَرِیْہِ جَنُوْنُ
فَالْعَقْلُ فَنٌّ وَاحِدٌ وَطَرِیْقُہُ اَدْرِیْ فَارْصُدُ وَالْجَنُوْنُ فُنُوْنُ
ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔میں عقل منددشمن سے امن میں ہوں لیکن ایسے دوست سے ڈرتاہوں جومجنون ہو۔
(۲)۔۔۔۔۔۔عقل ایک ہی فن ہے اوراس کاراستہ مجھے معلوم ہے پس میں اس کاخیال رکھتاہوں لیکن جنون کے کئی فن ہیں۔