فَاَصْبَحْتُمۡ بِنِعْمَتِہٖۤ اِخْوَانًا ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:تواس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہو گئے ۔ (پ4،اٰل عمران:103)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:
وَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمْ ؕ لَوْ اَنۡفَقْتَ مَا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمْ وَلٰکِنَّ اللہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمْ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:اگرتم زمین میں جوکچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملاسکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملادئیے۔(پ10 ،الانفال:63)
حضورنبئ پاک، صاحب ِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:''تم میں سے وہ شخص مجلس میں میرے زیادہ قریب ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ،جواپنے پہلوؤں کوجھکادیتے ہوں اور دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور دوسرے ان سے محبت کرتے ہیں۔''
(مکارم الأخلاق للطبرانی مع مکارم الأخلاق لابن ابی الدنیا ، باب ما جاء فی حسن الخلق ،الحدیث۶،ص۳۱۴)
نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عظمت نشان ہے:''مؤمن محبت کرنے والا ہوتاہے اوراس سے محبت کی جاتی ہے اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو دوسروں سے محبت نہیں کرتا اورنہ اس سے محبت کی جاتی ہے۔
(المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث ابی مالک سھل بن الساعدی ،الحدیث۲۲۹۰۳،ج۸،ص۴۳۵،بتغیرً)
نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ ہدایت نشان ہے: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ جس کے ساتھ بھلائی کاارادہ فرماتاہے اسے اچھادوست عطاکردیتا ہے اگریہ بھول جائے تووہ اسے یاددلاتاہے اور اگر اسے یادہوتووہ اس کی مددکرتاہے۔''
(سنن ابی داؤد ،کتاب الخراج ،باب فی اتخاذ الوزیر ،الحدیث۲۹۳۲،ص۱۴۴۲،مفھوماً)
سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمان رفعت نشان ہے:''جوشخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے کسی کوبھائی بناتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ جنت میں اس کاایک درجہ بلندکردیتاہے جس تک وہ کسی دوسرے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا۔
(الموسوعۃ لابن ابی الدنیا ،کتاب الاخوان ،باب الرغبۃ فی الاخوان والحث علیھم ،الحدیث۲۶،ج۸،ص۱۵۸،مفھوماً)