یہ اصلاحات کی ایک قسم ہے۔ جوشخص اسے لیتاہے اسے اس میں غورکرناچاہے کہ اگروہ مال اس ٹیکس سے ہوجو مسلمانوں پرمقررکیاجاتاہے یازبردستی لیاگیاہوتواس سے لیناجائزنہیں لیکن اگر مالِ وراثت، زمین سے حاصل ہونے والے اموال،مالِ فئی(وقف)،مالِ غنیمت اورجزیہ میں سے ہوتولیناجائزہے،لیکن اس شرط پر کہ اس کومال دینے میں کوئی مصلحت یا ضرورت ہو، امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامؤقف ہے کہ ہرمسلمان کا بیت المال پرحق ہے۔
جانناچاہئے !جزیہ کے چارخمس مسلمانوں کے مصالح کے لئے ہیں اورپانچواں خمس معینہ مصارف کے لئے ہے ،اگروہ بادشاہ مال اس لئے لیتاہے کہ اسے فقراء پرصدقہ کردے گامگرپرہیزگاری یہ ہے کہ وہ نہ لے،اوران میں سے بادشاہ کے پاس جاناہے اورشایدبادشاہ کے پاس جانااولی ہے لیکن اس شرط پرکہ وہ اس میں اپنے لیے رغبت نہ کرے اوردوسرے کی اقتداء نہ کرے اوربادشاہ سے لیتے وقت یہ گمان نہ کرے کہ اس کامال حلال ہے ورنہ وہ اس کے سبب اس جیسے کاموں پرجرأت کریگا۔ وَاللہُ اَعْلَمُ۔اس بات کوسمجھ لو فائدہ ہوگا۔