Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
151 - 415
اورجب آدمی کاوظیفہ ہو اور اس سے حرام میں داخل ہونے کاخوف ہویابادشاہ اورکسان کامال ہوتواس سے بچناپرہیزگاری ہے اوربعض ایسے ہیں جنہوں نے اکثر کی طرف دیکھاہے اوراسی کااعتبارکیا ہے۔

    حضرت سیِّدُناحارث مُحاسبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''اگرکسی کا کوئی دوست یابھائی ہو تو اس سے سوال نہیں کرنا چاہے کیونکہ بعض اوقات اس کے سامنے وہ چیزظاہرہوجاتی ہے جواس سے پوشیدہ تھی پس یہ چیزغصہ کی طرف لے جاتی ہے جو ہر حالت میں گناہ ہے۔

    جانناچاہئے !جس شخص کابعض مال حرام ہواس سے سوال کرنے کاکوئی فائدہ نہیں کیونکہ بعض اوقات وہ کسی مقصدکی وجہ سے جھوٹ بولتاہے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے سے سوال کیاجائے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔
مالی مظالم سے توبہ کابیان:
    جانناچاہے !جوشخص توبہ کرے اوراس کے قبضہ میں مخلوط(یعنی ملاجُلا ) مال ہو تو اس پرلازم ہے کہ وہ حرام کوالگ کردے اوردوسری ذمہ داری یہ ہے کہ اس نکالے ہوئے مال کوخرچ کردے۔

    پہلی ذمہ داری :تمیزکرنے اورحرام مال کوالگ کرنے کے بارے میں ہے اگروہ مال معلوم ہے،جوکسی سے چھیناہے یاامانت وغیرہ کا مال ہے تواس کامعاملہ آسان ہے، اگروہ ملاہوا ہے مثلاًاسے معلوم ہے کہ اس میں نصف مال حرام ہے یاایسی تجارت سے کمایاہے جس میں جھوٹ بولااورخیانت کی تواس پراتنی مقدارالگ کردینالازم ہے اوراگر مقدارمعلوم نہ ہوتو احتیاط ، ظنِّ غالب اور یقین سے اسے الگ کردے۔

    دوسری ذمہ داری:مال کوخرچ کرنے کے بارے میں ہے، جب وہ حرام مال الگ کردے تواگراس مال کاکوئی معین مالک ہوتواسے لوٹادے اوراگرمالک نہ ہو توورثاء کی طرف لوٹادے اوراگرغائب ہوتواس کے آنے کاانتظارکرے یا جس جگہ وہ ہے وہاں پہنچانے کی مشقت اٹھائے اوراگراس مال کاکوئی معین مالک نہ ہوتواسے صدقہ کردے یامسلمانوں کے مصالح مثلاً سرائیں،مساجد اورپل وغیرہ بنانے پرخرچ کردے، بہتریہ ہے کہ کسی ایماندار قاضی کے سپردکردے، بددیانت قاضی کے سپرد کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآنہ ہوگااوراس حرام مال کوصدقہ کرنے اور مسلمانوں کے مصالح پرخرچ کرنے کے جوازپربہت سی احادیث اوراقوال دلالت کرتے ہیں۔نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس بکری کوصدقہ کرنے کاحکم دیاجوبھنی ہوئی آپ کی بارگاہ میں پیش کی گئی اوراس بکری نے آپ سے کلام کرتے ہوئے عرض کی کہ وہ حرام ہے توآپ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے حکم فرمایا: ''اسے (کافر)قیدیوں کوکھلادو۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث رجل ،الحدیث۲۲۵۷۲،ج۸،ص۳۵۵)
Flag Counter