Brailvi Books

لباب الاحیاء (احیاء العلوم کا خلاصہ)
150 - 415
تواس شہر کی عورتوں میں نکاح کرناحرام نہیں اورعلت ،غلبہ اورحاجت دونوں چیزیں بن سکتی ہیں۔کیونکہ ہروہ شخص جس کاحرام ہونے والارشتے دار مخلوط ہوجائے اس پرنکاح کادروازہ بندکرناممکن نہیں،اسی طرح جس شخص کومعلوم ہو کہ دنیاوی مال میں حرام مال مل گیاہے تواس پرکھانا اورخریدوفروخت کرناحرام نہیں کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پردین میں حرج پیدانہیں کیااور نبئ اکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے زمانے میں ایک ڈھال اورعباء(یعنی چغہ)چوری ہوگیا تودنیامیں کسی کوڈھال اورعباء خریدنے سے منع نہیں کیا گیا۔    اس بات کوسمجھ لوفائدہ ہوگا۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔    (۳)غیرمعدودحرام غیرمعدودحلال کے ساتھ مل جائے جس طرح ہمارے زمانے کے مال ہیں اورجو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس معین چیزسے کسی چیزکالیناحرام نہیں البتہ یہ کہ اس معین چیزکے ساتھ کوئی علامتِ معینہ مل جائے(اگراس معین چیزپر کوئی علامتِ حرمت نہ ہو)تواس کاچھوڑناپرہیزگاری ہے ،ان علامات میں ظالم بادشاہ کاقبضہ اوردیگرعلامات ہیں جن کاذکرآئے گا۔

    ہماری اس بات پردلیل یہ ہے کہ نبئ اَکرم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اورخلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے زمانے میں معاملات اور اموال کے وصول کرنے کوترک نہیں کیا گیاباوجودشرابوں کی قیمت اورسودکے اموال کی کثرت کے جوذمی لوگوں کے ہاتھوں سے دوسرے مالوں میں مل جاتے تھے۔ شبہ پیداہونے والے مقامات میں سے یہ بھی ہے کہ چیزان میں سے ہو جو ذمیوں سے خریدی جاتی ہیں لیکن اس کی قیمت مال حرام سے اداکی گئی ہوالبتہ اگرکھانے کو قیمت پرقبضہ کرنے سے پہلے رضامندی سے سپردکردے اوروہ اسے قیمت اداکرنے سے پہلے کھالے تووہ بالاِتّفاق حلال ہے۔ حرام کے مقابلہ میں مال کے اداکرنے سے وہ چیز حرام نہیں ہوجاتی بلکہ مال کے اداکرنے کامقصدذمہ داری سے بری ہوناہے گویا کہ اس نے قیمت ادانہیں کی اورجواس نے کھایاوہ حرام نہیں ہوا۔

    اوراگرقیمت کے حرام ہونے کاعلم ہونے کے باوجودوہ اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوگیاتو یہ ذمہ سے بری ہونے اورحلال ہونے کوواجب کرتی ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔
تجسس اورسوال کابیان :
    جانناچاہے !نہ توہرحال میں تعریف کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ہرحال میں اسے ترک کیاجاسکتاہے۔ اگرمال ایسے شخص سے لیاجائے جونیک لوگوں کے لباس میں ہوتواس کااس حال میں ہوناہی کافی ہے اوراگرظالم اور فاسق لوگوں کے لباس میں ہوتواس کااس حال میں ہوناہی کافی ہے، لیکن اگروہ مستور الحال ہویعنی نہ تواس پرنیک لوگوں یاتاجروں کی علامت ہواورنہ ظالموں کی تو عدالتِ اسلام پراکتفاء کرتے ہوئے ظاہرپربھروسہ کیاجائے گااوریہ ان میں سے ہے جس سے سوال کرنا جائزہے
Flag Counter